Articles Farozaan

موسمیاتی تبدیلی: نمائشی ماحولیات کا پردہ فاش

Climate Change: Exposing Performative Environmentalism

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر نمائشی مہمات کے بجائے مؤثر اقدامات، عوامی شعور اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک سائنسی اصطلاح یا بین الاقوامی کانفرنسوں کا موضوع نہیں رہی۔ یہ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی زندگی، معیشت اور مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔

دنیا شدید گرمی، پانی کی قلت، سمندروں کے بڑھتے درجہ حرارت، غیر متوقع بارشوں اور تباہ کن موسمی واقعات کی لپیٹ میں ہے۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس بحران کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اب بھی اس خطرے کو اس سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں جس کا یہ تقاضا کرتا ہے۔

ماحولیات کے نام پر بڑھتی نمائشی سرگرمیاں

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ موسمیاتی بحران جتنا سنگین ہوتا جا رہا ہے، ماحولیات کے نام پر ہونے والی نمائشی سرگرمیوں میں بھی اسی قدر اضافہ ہو رہا ہے۔

چند افراد کو کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں جمع کر لینا، رنگین بیک ڈراپس کے سامنے تصاویر بنوا لینا، ساحلِ سمندر پر چند منٹ کی صفائی مہم چلا کر سوشل میڈیا پر درجنوں پوسٹیں لگا دینا یا چند پودے لگا کر خود کو ماحول کا محافظ قرار دے دینا، آج کل ماحولیاتی خدمت کی نئی تعریف بنتی جا رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو فوٹو سیشنز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ درجہ حرارت سوشل میڈیا پوسٹوں سے کم نہیں ہوتا۔

سمندر پریس ریلیز پڑھ کر ٹھنڈے نہیں ہوتے اور آلودگی سیمیناروں کے اختتامی اعلامیوں سے ختم نہیں ہوتی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیات کے نام پر جاری اس نمائشی کاروبار کا کھل کر احتساب کیا جائے۔

عوامی شعور کو مرکز بنانے کی ضرورت

فروزاں نے ہمیشہ اس سوچ کی مخالفت کی ہے کہ ماحولیاتی آگہی صرف مخصوص طبقات، مہنگے ہوٹلوں یا ایئرکنڈیشنڈ ہالوں تک محدود رہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے تو آگہی کا پیغام بھی اسی تک پہنچنا چاہیے۔

اسی سوچ کے تحت فروزاں گزشتہ چار برسوں سے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر کراچی کلائمیٹ فیسٹیول کا انعقاد کر رہا ہے۔ یہ کراچی کا سب سے بڑا ماحولیاتی اجتماع بن چکا ہے، جس کا مقصد ماہرین کی گفتگو کو عوامی مکالمے میں تبدیل کرنا ہے۔

کراچی کلائمیٹ فیسٹیول کی اہمیت

رواں سال آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہونے والا کراچی کلائمیٹ فیسٹیول سینکڑوں افراد کی شرکت کے ساتھ شہر کا سب سے بڑا عوامی ماحولیاتی اجتماع ثابت ہوا۔ یہاں صرف ماہرین کی گفتگو نہیں ہوتی بلکہ ماحولیاتی موضوعات پر اسٹیج ڈرامے بھی پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ شعور صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ احساس سے بھی پیدا ہوتا ہے۔

جب کوئی نوجوان اسٹیج پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کرداروں کے ذریعے پیش کرتا ہے تو اس کا اثر کئی رسمی تقاریر سے زیادہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔

احتساب کا وقت آ چکا

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان افراد اور اداروں سے سوال کیا جائے جو برسوں سے تصاویر تو بنا رہے ہیں لیکن شعور پیدا نہیں کر رہے۔

ان سے پوچھا جائے کہ ان کی سرگرمیوں نے کتنے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی؟ کتنے نوجوان اس جدوجہد کا حصہ بنے؟ کتنے شہریوں کے رویے تبدیل ہوئے؟ اور کتنے لگائے گئے پودے آج بھی زندہ ہیں؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ماحولیاتی شعبے میں بھی جوابدہی کا کلچر فروغ پائے۔ ماحولیات کوئی فیشن نہیں، کوئی پروجیکٹ نہیں اور نہ ہی چند تصاویر کا نام ہے۔ یہ انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔

اگر ہم نے اسے بھی تشہیر، مفادات اور نمائشی سرگرمیوں کی نذر کر دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی: 2.48 ارب روپے مختص، گرین پاکستان پروگرام کو بڑا حصہ


سمندر تباہی کے دہانے پر، دنیا کے طاقتور رہنما ممباسا میں جمع

سچائی اور عمل ہی واحد راستہ

فروزاں سمجھتا ہے کہ موسمیاتی بحران کے خلاف جنگ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد، ہر ادارے اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم اس جدوجہد کی پہلی شرط سچائی ہے۔

ہمیں خود کو دھوکا دینا بند کرنا ہوگا۔ ہمیں ماحولیات کے نام پر ہونے والی کھوکھلی سرگرمیوں اور موسمیاتی تجارت کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔ کیونکہ جب خطرہ ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہو تو خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔

یہ وقت تعریفوں کا نہیں، احتساب کا ہے۔

یہ وقت نمائشی ماحولیات کا نہیں، حقیقی تبدیلی کا ہے۔

تصویروں سے نہیں، عمل سے تبدیلی آئے گی۔

یہ وقت نمائشی ماحولیات کا نہیں، حقیقی تبدیلی کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیات کے نام پر فنڈز، اسپانسر شپ اور تشہیر حاصل کرنے والے تمام عناصر سے جواب طلبی کی جائے تاکہ موسمیاتی تحفظ کی جدوجہد واقعی عوامی مفاد اور پائیدار نتائج کی جانب بڑھ سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں