موسمیاتی بحران اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب دنیا بڑھتے درجہ حرارت اور ماحولیاتی خطرات کے سنگین دور میں داخل ہو رہی ہے۔
فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، جنگلات کی آتشزدگی، خشک سالی، سمندری طوفان اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے اس بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری
یہ قرارداد بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک وینوآتو اور دیگر متاثرہ ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
تفصیلی بحث کے بعد یہ قرارداد 141 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لی گئی۔
آٹھ ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ 28 ممالک غیر حاضر رہے۔
مخالفت کرنے والے ممالک میں امریکہ، روس، سعودی عرب، ایران، اسرائیل، بیلاروس، لائبیریا اور یمن شامل ہیں۔
اس قرارداد کا مقصد عالمی سطح پر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو تیز کرنا ہے۔

قرارداد کی اہمیت کیوں بڑھ گئی؟
گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے گئے ہیں۔
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی، امریکہ اور کینیڈا میں جنگلات کی آگ، افریقہ میں خشک سالی، چین میں شدید بارشیں اور جنوبی ایشیا میں تباہ کن سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی بحران کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔
پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے تین کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا۔
یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ موسمیاتی بحران اب انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔

قرارداد میں شامل اہم نکات
اس قرارداد میں کئی اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں: موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون میں اضافہ
ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد اور ٹیکنالوجی کی فراہمی
کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے سخت اقدامات
قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی حوصلہ افزائی
متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی نظام کی تشکیل
ماحولیاتی انصاف اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات خاص طور پر ان ممالک کے لیے اہم ہیں جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں مگر ان کے پاس وسائل محدود ہیں۔

مخالفت کرنے والے ممالک اور ان کے خدشات
اگرچہ قرارداد کو واضح اکثریت حاصل ہوئی، تاہم آٹھ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان ممالک کے تحفظات کی بنیادی وجوہات معاشی مفادات اور توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار ہیں۔
کئی بڑی معیشتیں تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کرتی ہیں، اسی لیے انہیں خدشہ ہے کہ سخت ماحولیاتی قوانین ان کی صنعتی ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے امید
یہ قرارداد ترقی پذیر اور موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سوڈان جیسے ممالک موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں ان کا حصہ بہت کم ہے۔
ان ممالک کا مؤقف ہے کہ صنعتی ممالک نے دہائیوں تک ماحول کو آلودہ کیا، جس کا بوجھ اب کمزور ممالک اٹھا رہے ہیں۔
کیا صرف قرارداد کافی ہے؟
ماہرین کے مطابق صرف قراردادیں کافی نہیں ہوتیں۔
اگرچہ پیرس معاہدے جیسے عالمی اقدامات موجود ہیں، لیکن کاربن اخراج میں نمایاں کمی نہیں آ سکی۔
اصل چیلنج ان قراردادوں پر عمل درآمد ہے۔
اگر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ روکنا مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان کے لیے سبق
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
شدید گرمی، پانی کی کمی، غیر متوقع بارشیں اور گلیشیئرز کا پگھلاؤ سنگین مسائل ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ:
قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائے
جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کو فروغ دے
آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے اقدامات کرے
موسمیاتی آگاہی کو عام کرے
اگر مقامی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی پالیسیاں بھی مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی سے جھیلوں کا قدرتی فلٹر سسٹم خطرے میں
شجرکاری مہم: لاڑکانہ میں ماحولیاتی آگاہی تقریب
مارخور کا عالمی دن تحفظ اور گلگت بلتستان کی ماحولیاتی اہمیت
نتیجہ
اقوام متحدہ کی یہ قرارداد دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ موسمیاتی بحران اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔
اگر عالمی برادری نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو دنیا ایک ایسے خطرناک مستقبل کی طرف جا سکتی ہے جہاں واپسی ممکن نہیں ہوگی۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف یہ جدوجہد دراصل انسانیت کی بقا کی جنگ ہے۔
