Environmental News Environmental Reports

موسمیاتی تبدیلی سے جھیلوں کا قدرتی فلٹر سسٹم خطرے میں

Climate Change Puts Lakes’ Natural Filtration System at Risk

موسمیاتی تبدیلی کے باعث جھیلوں میں نائٹروجن ختم کرنے کا قدرتی عمل متاثر، ساحلی سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے خطرات بڑھنے لگے

جھیلیں ماحولیاتی نظام میں قدرتی فلٹر کا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ پانی میں موجود اضافی نائٹروجن کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

تاہم ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس قدرتی صفائی کے عمل کو کمزور کر سکتی ہے، جس کے اثرات ساحلی سمندری ماحولیاتی نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف باسل اور ایواگ کی قیادت میں کی گئی۔ اس کے نتائج جریدے “نیچر مائیکروبائیولوجی” میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے مطابق جھیلوں میں موجود خردبینی جاندار نائٹریٹ اور امونیا جیسے نائٹروجن مرکبات کو ڈائی نائٹروجن گیس میں تبدیل کرتے ہیں، جو بعد میں فضا میں خارج ہو جاتی ہے۔

اس عمل کو “ڈی نائٹریفیکیشن” کہا جاتا ہے۔ یہ عمل نائٹروجن کو حیاتیاتی نظام سے مؤثر انداز میں خارج کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اندرونی آبی ذخائر میں قدرتی نائٹروجن کے خاتمے کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی عمل کے ذریعے ہوتا ہے، مگر موسمیاتی حدت اس نظام کو متاثر کر رہی ہے۔

یہ جھیل سال میں ایک بار مکمل طور پر مکس ہوتی ہے، جو دنیا کے کئی خطوں کی جھیلوں کی عام خصوصیت ہے

سردیوں میں جھیلوں کی صفائی کا عمل زیادہ فعال

تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے سوئٹزرلینڈ کی جھیل بالڈیگر سے نمونے حاصل کیے۔ یہ جھیل سال میں ایک بار مکمل طور پر مکس ہوتی ہے، جو دنیا کے کئی خطوں کی جھیلوں کی عام خصوصیت ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈی نائٹریفیکیشن کا عمل جھیل کے موسمی اختلاط سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سردیوں میں سطح کا گرم اور آکسیجن سے بھرپور پانی، درمیانی تہہ اور گہرے حصے کے ٹھنڈے اور کم آکسیجن والے پانی کے ساتھ مکمل طور پر مل جاتا ہے۔

اسی مرحلے کے دوران نائٹروجن ختم کرنے کی سرگرمی گرمیوں کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

اس سے جھیلوں کی نائٹروجن ختم کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

موسمیاتی تبدیلی سے خطرات بڑھنے کا خدشہ

مرکزی محقق کیمرون کال بیک کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث سردیوں میں پانی کے اختلاط کا دورانیہ تقریباً 27 دن تک کم ہو سکتا ہے۔ اس سے جھیلوں کی نائٹروجن ختم کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ سردیوں میں یہ عمل اتنا زیادہ فعال کیوں ہوتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی اس قدرتی نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔

سائنس دانوں نے ڈی نائٹریفیکیشن کی پیمائش کے لیے دو طریقے استعمال کیے۔

نائٹروجن سمندر تک پہنچنے کے نقصانات

اگر جھیلیں نائٹروجن کو جذب اور ختم نہ کریں تو یہ دریاؤں کے ذریعے سمندر تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں کائی کی بہتات، آکسیجن کی کمی سے “ڈیڈ زونز” اور حساس ماحولیاتی نظام پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ڈاکٹر مورٹز لیہمن کے مطابق جھیلوں کے موسمی اختلاط میں معمولی تبدیلیاں بھی نائٹروجن کے عالمی چکر پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔

یوں کائٹن کا ٹوٹنا جھیل میں اضافی نائٹروجن ختم کرنے کے عمل کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کیسے کی گئی؟

سائنس دانوں نے ڈی نائٹریفیکیشن کی پیمائش کے لیے دو طریقے استعمال کیے۔

پہلے مرحلے میں انہوں نے جھیل کی تہہ سے حاصل کردہ نمونوں میں نائٹروجن کے نایاب آئسوٹوپ “15 این” شامل کیے۔ اس طریقے سے یہ جاننا ممکن ہوا کہ کتنی نائٹروجن گیس میں تبدیل ہوئی۔

دوسرے مرحلے میں انہوں نے پوری جھیل کا ایک ماڈل تیار کیا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مجموعی طور پر کتنی نائٹروجن ختم ہو رہی ہے۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ سردیوں کا دور نائٹروجن کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم مرحلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

شجرکاری مہم: لاڑکانہ میں ماحولیاتی آگاہی تقریب

مارخور کا عالمی دن تحفظ اور گلگت بلتستان کی ماحولیاتی اہمیت

خردبینی جانداروں کی مشترکہ سرگرمی

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جھیل کی تہہ میں مختلف بیکٹیریا مل کر کام کرتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا “کائٹن” نامی مضبوط مادے کو توڑتے ہیں، جو مردہ الجی اور آبی جانداروں کے خول سے بنتا ہے۔

اس عمل سے بننے والے مرکبات دوسرے خردبینی جانداروں کے لیے توانائی فراہم کرتے ہیں، جو بعد میں نائٹریٹ کو ڈائی نائٹروجن گیس میں تبدیل کرتے ہیں۔

یوں کائٹن کا ٹوٹنا جھیل میں اضافی نائٹروجن ختم کرنے کے عمل کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین اب اس بات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہ عمل جھیلوں میں موسمیاتی تبدیلی کے لیے نقصان دہ گیس “نائٹرس آکسائیڈ” کی پیداوار کو بھی متاثر کرتا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں