Environmental Reports Farozaan

امریکا میں جنگلاتی آگ کا بحران مزید خطرناک ہونے والا ہے؟

Is the wildfire crisis in America going to become more dangerous?

امریکا میں جنگلاتی آگ کا پھیلاؤ بے قابو، لاکھوں ایکڑ زمین جل گئی، ماہرین نے مزید خطرناک خطرات سے خبردار کر دیا

امریکا کی ریاست جارجیا کے جنوبی علاقوں میں تیزی سے پھیلنے والی آگ نے ریکارڈ تعداد میں گھروں کو تباہ کر دیا۔

جبکہ نیبراسکا کے میدانوں میں ریاست کی تاریخ کی سب سے بڑی آگ نے ایک شخص کی جان لے لی اور چھ لاکھ ایکڑ سے زائد مویشیوں کے علاقے کو جلا کر راکھ کر دیا۔

اسی طرح لاس اینجلس کے قریب غیر معمولی طور پر جلد لگنے والی آگ نے ہزاروں افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔

پورے امریکا میں اس موسمِ بہار کے دوران جنگلاتی آگ کی شدت تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

بہار کا موسم، مگر خطرناک آگ

اس بہار جنگلاتی آگ کا موسم بالکل بھی معمولی نہیں رہا۔

پورے امریکا میں اس موسمِ بہار کے دوران جنگلاتی آگ کی شدت تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 30 ہزار آگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

دو ملین ایکڑ سے زائد رقبہ جل چکا ہے۔ یہ گزشتہ دس سال کی اوسط سے دوگنا اور 14 برسوں میں سب سے زیادہ نقصان ہے۔

ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں سب سے زیادہ آگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

مختلف خطوں میں مختلف شدت

ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں سب سے زیادہ آگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ آگیں معمول سے زیادہ آبادی کے قریب بھڑک رہی ہیں۔

تاہم سب سے بڑی آگیں عظیم میدانوں میں دیکھی گئیں۔ یہاں تیز ہواؤں نے شعلوں کو شہروں تک پھیلا دیا۔

مغربی علاقوں میں بھی غیر معمولی طور پر جلد اور تباہ کن آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔اس سے خطرناک موسم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ان کے مطابق کئی عوامل مل کر اس سال کو نہایت خطرناک بنا رہے ہیں۔

ماہرین کی تشویش

فلوریڈا میں ایک تحقیقی ادارے کے ماہر مورگن وارنر کے مطابق،”ہم ابھی مئی میں ہیں اور لوگ اپنے گھر اور جانیں کھو رہے ہیں۔”

ان کے مطابق کئی عوامل مل کر اس سال کو نہایت خطرناک بنا رہے ہیں۔

ان عوامل میں کم برف باری شامل ہے۔ زیادہ خشک پودے بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔

آگ کے بڑھنے کی وجوہات

ان عوامل میں کم برف باری شامل ہے۔ زیادہ خشک پودے بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔

شدید خشک سالی نے حالات مزید خراب کیے ہیں۔ موسم کے پیٹرن میں تبدیلیاں بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ماحولیاتی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سے گرم اور خشک حالات پیدا ہو رہے ہیں، جو آگ کو بھڑکنے اور پھیلنے میں مدد دیتے ہیں۔

جارجیا میں مارچ سے مئی کے دوران آگ لگنا عام بات ہے۔لیکن اس سال صورتحال غیر معمولی رہی۔

جنوب مشرقی علاقوں میں خشک موسم کا اثر

جارجیا میں مارچ سے مئی کے دوران آگ لگنا عام بات ہے۔لیکن اس سال صورتحال غیر معمولی رہی۔

سال کے آغاز سے اب تک تین ہزار سے زائد آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔83 ہزار ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔

یہ گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا واقعات اور آٹھ گنا زیادہ رقبہ ہے۔

محکمہ جنگلات کے عہدیدار تھامس بیریٹ کے مطابق، ہم 2025 کے آخر سے خشک سالی کا شکار ہیں اور حالات بدترین ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہیں۔
جولائی تک شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آبادی کے قریب آگ کا بڑھتا خطرہ

اس سال ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ آگیں آبادی کے زیادہ قریب بھڑک رہی ہیں۔

اپریل میں ہائی وے 82 پر لگنے والی آگ نے 120 سے زائد گھروں کو تباہ کر دیا۔ یہ آگ ممکنہ طور پر ایک غبارے کے بجلی کی تار سے ٹکرانے سے لگی۔

فلوریڈا میں بھی جیکسن وِل اور میامی کے قریب ہزاروں ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔ دھواں ان علاقوں تک پہنچا جہاں عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔

میدانوں میں تیز ہواؤں کا کردار

12 مارچ کو نیبراسکا میں مورِل نامی آگ نے صرف ایک دن میں 70 میل تک پھیلاؤ کیا۔
اس نے 6 لاکھ 42 ہزار ایکڑ رقبہ جلا دیا۔

یہ ریاست کی تاریخ کی سب سے بڑی آگ بن گئی۔

نیبراسکا، کولوراڈو، کنساس اور ساؤتھ ڈکوٹا میں سب سے زیادہ رقبہ جل چکا ہے۔ صرف نیبراسکا میں 25 بڑی آگیں لگ چکی ہیں۔

یہ ملک میں جلنے والے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہیں۔

مغربی علاقوں میں خطرناک پیشگوئی

مغربی امریکا میں عام طور پر آگ کا موسم گرمیوں اور خزاں میں شروع ہوتا ہے۔لیکن اس بار یہ سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ خاص طور پر کیلیفورنیا میں صورتحال تشویشناک ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سانتا روزا جزیرے پر 17 ہزار ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔ یہ علاقہ نایاب پودوں اور جانوروں کے لیے اہم ہے۔

دیگر علاقوں میں بھی بڑی آگوں کے باعث ہزاروں افراد کو انخلا کی ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

شجرکاری مہم: لاڑکانہ میں ماحولیاتی آگاہی تقریب

مارخور کا عالمی دن تحفظ اور گلگت بلتستان کی ماحولیاتی اہمیت

مستقبل کا خدشہ

ماہرین کے مطابق غیر معمولی خشک سردیوں اور کم برف باری نے زمین کو جلد خشک کر دیا۔ مارچ میں شدید گرمی نے خطرہ مزید بڑھایا۔

پیشگوئی ہے کہ گرمیوں میں کیلیفورنیا، جنوب مغربی علاقوں اور عظیم بیسن میں آگ کی شدت اوسط سے زیادہ رہے گی۔

بارشوں کے بعد اگنے والی سبزہ بھی آگ کے لیے ایندھن بن سکتی ہے۔ موسمی تبدیلیاں خشک آندھیوں اور بجلی کے طوفانوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شدید گرمی کے بعد خشک بجلی گرے تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ اسی خدشے پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں