تنویر احمد، بیورو چیف گلگت بلتستان
گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان اور اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے درمیان باضابطہ تعاون کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد برفانی چیتے اور اس کے قدرتی مسکن کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔
گلگت بلتستان دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں برفانی چیتا اپنے قدرتی ماحول میں پایا جاتا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے مشترکہ طور پر جدید سائنسی طریقے اپنائیں گے۔
ان میں شامل ہیں کیمرا ٹریپنگ، ای ڈی این اے تجزیہ، جینیاتی نمونوں کا جائزہ، سیٹلائٹ کالرنگ اور شکار جانوروں کے سروے۔
یہ تمام طریقے برفانی چیتے کی آبادی، نقل و حرکت اور رہائشی علاقوں کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔
اس تحقیق سے موجودہ صورتحال کو سمجھنے اور مستقبل کی تحفظی حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
معاہدے میں پہاڑی علاقوں کی مقامی آبادی اور جنگلی جانوروں کے درمیان تنازعہ کم کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
اس کے لیے عملی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ پریڈیٹر پروف کورلز یعنی شکاری جانوروں سے محفوظ باڑیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ مویشی محفوظ رہ سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مویشی انشورنس اسکیمیں اور ویکسینیشن سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
اس سے مقامی لوگوں کو معاشی تحفظ ملے گا اور برفانی چیتے کے خلاف منفی رویہ کم ہوگا۔
اس معاہدے پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے دستخط کیے۔
گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات سید عبد الواحید شاہ، چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین، اور ڈپٹی سیکرٹری جنگلات عنایت اللہ شیخ۔
اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات سید عبد الواحید شاہ، چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈاکٹر ذاکر حسین، اور ڈپٹی سیکرٹری جنگلات عنایت اللہ شیخ۔
سینئر ریجنل پروگرام منیجر ڈاکٹر حسین علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر الدین۔
اس موقع پر ڈاکٹر حسین علی نے سید عبد الواحید شاہ کو یادگاری سووینئر بھی پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی یومِ ارض: کیا دنیا کا “تیسرا قطب” ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے؟
پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟
ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش
اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کئی برسوں سے گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کر رہی ہے۔
یہ ادارہ نہ صرف سائنسی تحقیق کر رہا ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز میں آگاہی بھی پیدا کر رہا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے اس کردار کو سراہا اور مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں اداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ شراکت داری تحفظی اقدامات کو مزید مضبوط کرے گی۔
اس سے برفانی چیتے، اس کے شکار جانوروں اور حساس پہاڑی ماحولیاتی نظام کو فائدہ ملے گا۔
ساتھ ہی مقامی کمیونٹیز کے لیے بھی دیرپا اور پائیدار فوائد حاصل ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.