فروزاں رپورٹ
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے عالمی یومِ خطرے سے دوچار انواع کے موقع پر پاکستان کی نایاب جنگلی حیات کو درپیش بڑھتے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارے کے مطابق رہائشی علاقوں کی تباہی، آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیاں کئی انواع کو معدومی کے قریب لے جا رہی ہیں۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان حکومت، محققین اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر متعدد نایاب انواع کے تحفظ پر کام کر رہا ہے۔
ان میں شامل ہیں: سفید پشت والا گدھ، لمبی چونچ والا گدھ، چیئر فیزنٹ، گریٹ انڈین بسٹرڈ، میٹھے پانی کے کچھوے، انڈین پینگولین، ایشیائی سیاہ ریچھ، برفانی چیتا اور نابینا دریائی ڈولفن۔
ان منصوبوں میں قدرتی مسکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی، کمیونٹی شمولیت اور پالیسی سازی شامل ہے۔
ادارے کے مطابق سفید پشت والا گدھ انتہائی خطرے سے دوچار انواع میں شامل ہے۔
جنگلات میں اس کی تعداد پچاس سے بھی کم رہ گئی ہے۔
اس کے تحفظ کیلئے افزائشی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
زہریلی ویٹرنری ادویات کے اثرات کم کرنے کیلئے “ولچر سیف زونز” بھی بنائے گئے ہیں۔
بریڈنگ پروگرام میں اس وقت تینتیس گدھ موجود ہیں۔
غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر میں سو سے زائد اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔
تربیت میں وائلڈ لائف کرائم کی روک تھام اور جانوروں کی محفوظ منتقلی شامل تھی۔
آزاد جموں و کشمیر کے پچیس اہلکاروں کو اسمارٹ ٹریننگ بھی دی گئی۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے دیوا وٹالہ نیشنل پارک کیلئے زیرو پوچنگ پلان تیار کیا ہے۔
غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف قومی حکمت عملی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
ایک ہزار سے زائد افراد کو آگاہی پروگرامز کے ذریعے تربیت دی گئی۔
ادارے نے پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا میں پینگولین پروٹیکشن زونز قائم کیے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں کم از کم سات انڈین پینگولینز کو ریسکیو کر کے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑا گیا۔
رب نواز، سینئر ڈائریکٹر پروگرامز نے کہا:“چترال اور گلگت بلتستان میں برفانی چیتے کی موجودگی حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ مکمل بحالی نہیں۔”
محمد جمشید اقبال چوہدری، سینئر مینیجر نے کہا:“حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ صاف پانی، خوراک اور ماحولیاتی استحکام کیلئے ضروری ہے۔”
یہ بھی پڑھیں
ڈیجیٹل تاخیر پاکستان کو عالمی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے
کراچی: شدید گرمی جاری، بوندا باندی کا امکان
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے انٹرنیشنل ڈے فار اینڈینجرڈ اسپیشیز کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان میں نایاب جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ان خطرات میں رہائشی علاقوں کی تباہی، آلودگی اور کلائمیٹ چینج شامل ہیں۔
ادارہ مختلف منصوبوں کے ذریعے برڈز، میملز اور ایکو سسٹمز کے تحفظ کیلئے کام کر رہا ہے۔
غیر قانونی وائلڈ لائف ٹریڈ کے خلاف بھی اقدامات جاری ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.