Wildlife

خطرے سے دوچار انواع، تحفظ کی نئی پیش رفت

خطرے سے دوچار انواع پر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے نایاب انواع کے تحفظ اقدامات تیز کیے اور بڑھتے خطرات سے آگاہ کیا۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے عالمی یومِ خطرے سے دوچار انواع کے موقع پر پاکستان کی نایاب جنگلی حیات کو درپیش بڑھتے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کے مطابق رہائشی علاقوں کی تباہی، آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیاں کئی انواع کو معدومی کے قریب لے جا رہی ہیں۔

ان منصوبوں میں قدرتی مسکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی، کمیونٹی شمولیت اور پالیسی سازی شامل ہے۔

تحفظ کے جاری منصوبے

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان حکومت، محققین اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر متعدد نایاب انواع کے تحفظ پر کام کر رہا ہے۔

ان میں شامل ہیں: سفید پشت والا گدھ، لمبی چونچ والا گدھ، چیئر فیزنٹ، گریٹ انڈین بسٹرڈ، میٹھے پانی کے کچھوے، انڈین پینگولین، ایشیائی سیاہ ریچھ، برفانی چیتا اور نابینا دریائی ڈولفن۔

ان منصوبوں میں قدرتی مسکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی، کمیونٹی شمولیت اور پالیسی سازی شامل ہے۔

ادارے کے مطابق سفید پشت والا گدھ انتہائی خطرے سے دوچار انواع میں شامل ہے۔

سفید پشت والا گدھ: انتہائی خطرے میں

ادارے کے مطابق سفید پشت والا گدھ انتہائی خطرے سے دوچار انواع میں شامل ہے۔
جنگلات میں اس کی تعداد پچاس سے بھی کم رہ گئی ہے۔

اس کے تحفظ کیلئے افزائشی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
زہریلی ویٹرنری ادویات کے اثرات کم کرنے کیلئے “ولچر سیف زونز” بھی بنائے گئے ہیں۔

بریڈنگ پروگرام میں اس وقت تینتیس گدھ موجود ہیں۔

تربیت میں وائلڈ لائف کرائم کی روک تھام اور جانوروں کی محفوظ منتقلی شامل تھی۔

غیر قانونی شکار اور تربیتی اقدامات

غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ ایک سال میں پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر میں سو سے زائد اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔
تربیت میں وائلڈ لائف کرائم کی روک تھام اور جانوروں کی محفوظ منتقلی شامل تھی۔

آزاد جموں و کشمیر کے پچیس اہلکاروں کو اسمارٹ ٹریننگ بھی دی گئی۔

قومی حکمت عملی اور آگاہی مہم

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے دیوا وٹالہ نیشنل پارک کیلئے زیرو پوچنگ پلان تیار کیا ہے۔

غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف قومی حکمت عملی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

ایک ہزار سے زائد افراد کو آگاہی پروگرامز کے ذریعے تربیت دی گئی۔

حالیہ مہینوں میں کم از کم سات انڈین پینگولینز کو ریسکیو کر کے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑا گیا۔

پینگولین تحفظ اور ریسکیو

ادارے نے پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا میں پینگولین پروٹیکشن زونز قائم کیے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں کم از کم سات انڈین پینگولینز کو ریسکیو کر کے قدرتی ماحول میں واپس چھوڑا گیا۔

ماہرین کے خیالات

رب نواز، سینئر ڈائریکٹر پروگرامز نے کہا:“چترال اور گلگت بلتستان میں برفانی چیتے کی موجودگی حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ مکمل بحالی نہیں۔”

محمد جمشید اقبال چوہدری، سینئر مینیجر نے کہا:“حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ صاف پانی، خوراک اور ماحولیاتی استحکام کیلئے ضروری ہے۔”

یہ بھی پڑھیں

ڈیجیٹل تاخیر پاکستان کو عالمی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے
کراچی: شدید گرمی جاری، بوندا باندی کا امکان

انگریزی ورژن (اردو رسم الخط میں)

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے انٹرنیشنل ڈے فار اینڈینجرڈ اسپیشیز کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان میں نایاب جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ان خطرات میں رہائشی علاقوں کی تباہی، آلودگی اور کلائمیٹ چینج شامل ہیں۔

ادارہ مختلف منصوبوں کے ذریعے برڈز، میملز اور ایکو سسٹمز کے تحفظ کیلئے کام کر رہا ہے۔
غیر قانونی وائلڈ لائف ٹریڈ کے خلاف بھی اقدامات جاری ہیں۔

admin

Recent Posts

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…

22 hours ago

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

2 days ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

3 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

4 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

5 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

5 days ago

This website uses cookies.