فروزاں رپورٹ
سفید دم عقاب، جسے وائٹ ٹیلڈ ایگل بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں انتہائی نایاب پرندہ ہے۔ سرد خطوں کا یہ طاقتور شکاری ممکنہ طور پر سخت موسم کے باعث راستہ بھٹک کر سندھ پہنچا۔
تاہم آسمانوں کا یہ شکاری سندھ کے شکاریوں سے محفوظ نہ رہ سکا اور اسے پکڑ کر قید کر لیا گیا۔
ایک اور امکان یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث وائٹ ٹیلڈ ایگل راستہ بھٹکا اور سندھ آپہنچا۔
شکار کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے اس نایاب پرندے کی آنکھوں کو سوئی سے سی دیا گیا، جبکہ اسے اڑنے سے روکنے کے لیے اس کے پر بھی کاٹ دیے گئے۔
نومبر 2025 میں ہارون نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس قیمتی ترین عقاب کو سکھر سے ریسکیو کیا۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ طاس ڈولفن کے لیے محفوظ مسکن میں اضافہ، بقا کی امید روشن
اسپارکو:عالمی خلائی ہفتہ 2026 کا آغاز، ’’راکٹ انقلاب‘‘ موضوع مقرر
یہ طاقتور شکاری پرندہ عموماً اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک سرد خطوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی آمد انتہائی نایاب ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پوری بیسویں صدی کے دوران پاکستان میں اس پرندے کے صرف 12 سے 15 یا اس سے بھی کم مستند ریکارڈ سامنے آئے۔
پاکستان میں سفید دم عقاب کو ’’نایاب موسمِ سرما کا مہمان‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی لیے سندھ میں اس کا ملنا جنگلی حیات کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
This website uses cookies.