فروزاں رپورٹ
برطانیہ کے کسانوں کو ریکارڈ پر بلیو ٹنگ بیماری کی بدترین وبا کا سامنا ہے۔ رواں سیزن میں اس بیماری کے کیسز گزشتہ تین سال کے مجموعی کیسز سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
بلیو ٹنگ ایک وائرل بیماری ہے، جو بھیڑ، گائے اور دیگر مویشیوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں تیز بخار، منہ میں چھالے، سر پر سوجن اور لنگڑاپن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بعض شدید کیسز میں جانور کی زبان نیلی پڑ جاتی ہے اور منہ سے باہر بھی نکل سکتی ہے۔ بیماری کی انتہائی سنگین صورت میں جانور ہلاک بھی ہو سکتا ہے۔
بلیو ٹنگ وائرس مچھر نما کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس وائرس کی ابتدا افریقہ سے ہوئی تھی، تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یہ یورپ تک پھیل چکا ہے۔
عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت کے مطابق اس پھیلاؤ کا تعلق موسمیاتی بحران سے ہے۔
مویشیوں کو متاثر کرنے والی موجودہ قسم، سیرو ٹائپ 3 (بی ٹی وی-3)، پہلی بار 2023 میں انگلینڈ میں سامنے آئی تھی۔
ماہرین تعلیم کے مطابق وائرس کی منتقلی کا تعلق اردگرد کے درجہ حرارت سے گہرا ہے۔ موسمیاتی بحران کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت کیسز میں اضافے اور بیماری کے مزید شمالی علاقوں تک پہنچنے کا سبب بن رہا ہے۔
بلیو ٹنگ انسانوں کو متاثر نہیں کرتی اور نہ ہی خوراک کی حفاظت کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
تاہم نیشنل فارمرز یونین کی نائب صدر روبن منٹ کے مطابق کسانوں کو مسلسل چوکس رہنا پڑ رہا ہے۔ وہ اپنے مویشیوں میں بیماری کی علامات کی باقاعدگی سے جانچ کر رہے ہیں۔
رواں بلیو ٹنگ سیزن کا آغاز یکم جولائی 2026 کو ہوا اور یہ 30 جون 2027 تک جاری رہے گا۔ برطانیہ کے محکمہ ماحولیات، خوراک و دیہی امور، ڈیفرا کے مطابق اب تک 2 ہزار 201 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک ہزار 103 کیسز صرف ستمبر میں سامنے آئے۔
رواں سیزن کو ابھی صرف تین ماہ ہوئے ہیں، لیکن کیسز کی تعداد گزشتہ تین سیزن کے مجموعی کیسز سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
ڈیفرا ایک کیس سے مراد ایسی جگہ یا فارم کو قرار دیتا ہے جہاں کم از کم ایک جانور بلیو ٹنگ سے متاثر ہو۔ اس لیے متاثرہ جانوروں کی اصل تعداد رپورٹ کیے گئے کیسز سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
کسان اپنے مویشیوں کو بلیو ٹنگ سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ تاہم روبن منٹ کے مطابق کسانوں کے لیے ویکسین حاصل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق ویکسین کی فراہمی طلب کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے موسمیاتی اثرات کے باعث مویشی پالنے والے کاروبار پہلے ہی ایسے اضافی اخراجات برداشت کر رہے ہیں، جن کی انہیں توقع نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کو ویکسین لگوانے اور ممکنہ طور پر بلیو ٹنگ سے متاثرہ جانوروں کے علاج سے فارم پر کام کا دباؤ اور ذہنی تناؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
رواں موسم گرما میں بلیو ٹنگ پہلی بار اسکاٹ لینڈ تک بھی پہنچ گئی ہے۔ بیماری کے کیسز اسکاٹ لینڈ کے شمالی علاقے ایبرڈین شائر تک سامنے آ چکے ہیں۔
انرجی اینڈ کلائمیٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سینئر تجزیہ کار ٹام کینٹیلن کے مطابق برطانیہ کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت اب بھی اتنا زیادہ ہے کہ وائرس مچھر نما کیڑوں کے اندر نشوونما پا سکتا ہے۔
انہوں نے رواں سال کی ریکارڈ وبا کو مستقبل میں آنے والی صورتحال کی ایک خطرناک علامت قرار دیا۔
ٹام کینٹیلن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث سردیاں نسبتاً معتدل اور گرمیاں زیادہ گرم ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایسے کیڑے اور جراثیم جو پہلے برطانیہ میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے، اب یہاں اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کے اثرات صرف کسانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام عوام بھی متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں
سفید دم عقاب 155 سال بعد پاکستان کی فضاؤں میں پہنچ گیا
سندھ طاس ڈولفن کے لیے محفوظ مسکن میں اضافہ، بقا کی امید روشن
رواں موسم گرما کے آغاز میں مشرقی لندن کے گھروں میں ایسے مچھروں کی افزائش بھی سامنے آئی تھی، جو زیکا وائرس اور ڈینگی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیزی سے گرم ہوتی آب و ہوا مستقبل میں ایسے حملہ آور مچھروں کے مزید علاقوں میں پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹام کینٹیلن نے کہا کہ ایسے کیڑوں اور جراثیم سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری ضروری ہے۔ اس میں مویشیوں کے لیے ویکسینیشن بھی شامل ہے۔
تاہم ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے ان حالات کا مقابلہ صرف ویکسین کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کی جاتی اور عالمی حدت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، ایسے پھیلاؤ کے امکانات بڑھتے رہیں گے۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
This website uses cookies.