Farozaan

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال سنگین بنا رہے ہیں۔ ماہرین کی وارننگ

اسلام آباد : ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سموگ کی وجوہات پیچیدہ اور متعدد ہیں۔ تاہم فصلوں کی باقیات جلانا ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی اخراج بھی آلودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال کو خراب بنا رہا ہے۔ جبکہ کمزور نفاذی نظام اس مسئلے کو مزید سنگین کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پنجاب میں فضائی آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے خطرناک سموگ بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ لہٰذا اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اسی تناظر میں مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔

یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ایک مکالمے میں کہی گئیں۔ اس دوران ماہرین، پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وقتی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ بلکہ جزوی اقدامات بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔ اس لئے سائنسی بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔

ساتھ ہی ایک مربوط اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ مزید برآں اس حکمتِ عملی کو قابلِ عمل ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی معیار کی بہتری پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ جبکہ کسانوں کی معاشی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کئے

زرعی شعبہ اور آلودگی کے اعداد و شمار

اجلاس کے آغاز میں زینب نعیم نے اہم اعداد و شمار پیش کئے۔ خصوصاً یہ اعداد و شمار فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں زرعی شعبہ آلودگی میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے۔ مثال کے طور پر زرعی شعبہ پی ایم 2.5 (پی ایم 2.5) اخراج میں تقریباً 20 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ اور صنعت بھی بڑے ذرائع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے بلیک کاربن پیدا ہوتا ہے۔ نتیجتاً یہ عنصر شام کے وقت سموگ کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کسانوں کو وقت کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح انہیں معاشی دباؤ بھی درپیش ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ باقیات جلانے کو تیز اور سستا حل سمجھتے ہیں۔

اس معاملے پر کوپ 30 (کوپ 30) سمیت مختلف عالمی فورمز پر بھی توجہ دی جا رہی ہے

عالمی تناظر اور بلیک کاربن کا خطرہ

کلین ایئر فنڈ کے نمائندے ٹومی نے عالمی تناظر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر زرعی باقیات کا حصہ تقریباً 3 فیصد ہے۔ تاہم مقامی حالات میں اس کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بلیک کاربن کو خطرناک آلودہ عنصر قرار دیا۔ مزید یہ کہ عالمی ماحولیاتی پالیسیوں میں اس پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ اس مسئلے پر کوپ 30 (کوپ 30) سمیت مختلف عالمی فورمز پر بات ہو رہی ہے۔

سابق وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے

عملدرآمد سب سے بڑا چیلنج

سابق وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان آلودگی سے شدید متاثر ممالک میں شامل ہے۔ اسی کے ساتھ یہ موسمیاتی خطرات کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے حل موجود ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ اسی طرح مضبوط نفاذ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسی دوران پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے بانی عابد عمر نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کا حصہ کم ہے۔ درحقیقت مجموعی آلودگی میں اس کا حصہ 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازی مضبوط ڈیٹا کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ محدود وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

عامر حیات اور محسن نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کیلئے مالی معاونت فراہم کی جائے

کسانوں کیلئے مالی اور تکنیکی معاونت

عامر حیات اور محسن نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کیلئے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ مضبوط سپلائی چین اور بہتر مارکیٹ روابط بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے زرعی مشینری کے فروغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال اور ویلیو چین کی ترقی کو بھی اہم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

انٹارکٹک میں جانور تیزی سے کیوں ختم ہورہے ہیں؟

زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟

حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی

ڈاکٹر امبرین لطیف اور ڈاکٹر صادقہ بتول نے فضائی معیار میں حالیہ بہتری اور حکومتی اقدامات کو سراہا۔ ان کے مطابق مانیٹرنگ نظام اور بہتر نفاذ کے باعث کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل، مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات ضروری ہیں۔

گفتگو کے دوران شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی نفاذ اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں موجود خلا کو فوری طور پر پر کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر سموگ کے بڑھتے ہوئے بحران پر مؤثر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

24 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.