Farozaan

اسموگ سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت مشترکہ فضائی آلودگی فورم کی تجویز

فضائی آلودگی اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے سرحد پار “انگنگیٹک ایئر شیڈ فورم” (مشترکہ فضائی آلودگی فورم)کے قیام کی تجوٰیذ دی ہے۔

ماہرین نےاسموگ اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرحد پار “انگنگیٹک ایئر شیڈ فورم” (مشترکہ فضائی آلودگی فورم)کے قیام کی تجوٰیزدی ہے۔
جبکہ فضائی معیار سے متعلق شفاف و مؤثر ڈیٹا شیئرنگ نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت تعاون ناگزیر ہے۔ تاکہ بڑھتی ہوئی سرحد پار دھند اور خطرناک فضائی آلودگی کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔
یہ مطالبہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینارمیں کیا گیا۔جس کا موضوع “پاکستان میں فضائی معیار کا جائزہ: چیلنجز اور مستقبل کا راستہ” تھا۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ فضائی آلودگی نہ صرف انسانی زندگی کی مدت کم کر رہی ہے ۔ بلکہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اور پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ فضائی آلودگی سے پاکستانیوں کی اوسط زندگی تقریباً چار سال کم ہورہی ہے۔ جبکہ لاہور کے شہریوں کی زندگی سات سال تک کم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے پاکستان کی سالانہ اقتصادی شرح نمو متاثر ہورہی ہے۔ اور سے 1.5 سے 2.5 فیصد تک نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صاف ہوا “غیر مرئی مگر انتہائی ضروری بنیادی ڈھانچہ” ہے۔ اور کووڈ-19 وبا نے محفوظ سانس اور آکسیجن کی انسانی زندگی کے لیے اہمیت واضح کردی ۔

ٹرانسپورٹ اور صنعت آلودگی کے بڑے ذرائع

ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں فضائی آلودگی کی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ٹریفک کا دباؤ، گرد و غبار شامل ہیں۔ جبکہ  ٹیکسلا کے قریب پتھر شکن صنعتیں فضائی معیار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فصلوں کی باقیات جلانا پورے سال کی فضائی آلودگی کی بنیادی وجہ نہیں۔ بلکہ ٹرانسپورٹ اور صنعتی اخراج بھی اس میں مسلسل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے مؤثر اقدامات کے ذریعے فضائی معیار میں بہتری دکھائی ہے۔  پاکستان کو چین اور دیگر ممالک کے تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے۔

:یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں اسموگ بحران اور جدید حل

پاکستان میں پانی کا بحران: کانفرنس 2026 کے اہم فیصلے اور حل

فضائی آلودگی پاکستان میں “پانچواں موسم”ہے


ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے اپنی پالیسی رپورٹ “ٹریک مشترکہ فضائی انتظام” پیش کی ۔ اور  کہا کہ فضائی آلودگی اب پاکستان میں “پانچواں موسم” بن چکی ہے۔ جو ہر سال اکتوبر سے جنوری تک بڑے شہروں میں شدید دھند اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں سیلاب یا طوفان جیسے مختصر مدتی آفات کے مقابلے میں زیادہ طویل اور خاموش اثرات مرتب کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے حالیہ اقدامات نے موسمی دھند کی شدت کو کچھ حد تک کم کیا ہے۔ تاہم پائیدار بہتری کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ سزا سے حل نہیں ہوگا


ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ صرف جرمانوں یا سزا سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اس کے لیے متبادل استعمال اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ علاقائی تعاون ضروری ہے۔ جبکہ مضبوط مانیٹرنگ نیٹ ورک اور شفاف ڈیٹا شیئرنگ سے بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے کئی شہر آلودہ ترین شہروں میں شامل

اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو مریم شبیر عباسی نے بتایا کہ پاکستان کے فیصل آباد، پشاور، ملتان اور اسلام آباد دنیا کے 100 آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فضائی معیار سے متعلق دستیاب ڈیٹا ابھی نامکمل ہے- اور کئی شہر قومی مانیٹرنگ نظام میں مکمل طور پر شامل نہیں ہیں۔

مانیٹرنگ نیٹ ورک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے

کامسیٹس یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جابر حسین سید نے کہا کہ فضائی آلودگی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ نیٹ ورک کی توسیع، وزارتوں، یونیورسٹیوں اور ماحولیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اور ۔شواہد پر مبنی پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.