Farozaan

صوتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، صحت اور سکون دونوں شدید متاثر

صوتی آلودگی پر قابو کے لیے اجتماعی ذمہ داری ضروری، ہر فرد کو بہتری کے لیے خود سے عملی اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا

دنیا میں آلودگی کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں ایک اہم قسم صوتی یا شور کی آلودگی ہے۔ اس مسئلے کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق وہ آوازیں جو کانوں کو ناگوار گزریں، صوتی آلودگی کہلاتی ہیں۔ سریلی آوازیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ خوشگوار محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن جب آواز حد سے بڑھ جائے اور اثر انداز ہونے لگے تو وہ شور بن جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وہ آوازیں جو کانوں کو ناگوار گزریں، صوتی آلودگی کہلاتی ہیں۔

شور کے بڑے ذرائع

صوتی آلودگی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کے کئی ذرائع ہیں۔

ان میں ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، موٹر گاڑیاں، پرانے رکشے، گھروں کی گھنٹیاں اور بلند آواز میں گفتگو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کاروباری مقاصد کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا بے جا استعمال اور تعمیراتی مشینری کا شور بھی شامل ہے۔

ماہرین کی رائے

پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق پشاور کے شعبہ ماحولیات کے سربراہ جہانگیر شاہ کے مطابق 65 ڈیسیبل سے زیادہ آواز شور آلودگی شمار ہوتی ہے۔

ان کے مطابق دباؤ والے ہارن اس مسئلے کی بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ کاروباری مقاصد کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا بے جا استعمال اور تعمیراتی مشینری کا شور بھی شامل ہے۔

پشاور میں شور کی صورتحال

جہانگیر شاہ کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں جائزہ لیا گیا۔ صبح 7 سے 9 بجے اور دوپہر 1 سے 3 بجے کے دوران شور کی سطح حد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

رام داس، سپین جماعت چوک، بورڈ بازار، سورے پل، تہکال، حاجی کیمپ، کوہاٹی اور صدر ایسے علاقے ہیں جہاں شور نمایاں ہے۔

تجارتی اور رہائشی علاقے:70 سے 88 ڈیسیبل تک شور ریکارڈ ہوا، جبکہ حد 65 ڈیسیبل ہے۔

شور کی سطح کی تفصیلات

تجارتی اور رہائشی علاقے:70 سے 88 ڈیسیبل تک شور ریکارڈ ہوا، جبکہ حد 65 ڈیسیبل ہے۔

خاموش زون (علاقہ):ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قریب شور 60 ڈیسیبل سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ حد 45 سے 50 ہے۔

شدید متاثرہ مقامات: فردوس، قصہ خوانی، اسٹیڈیم چوک، ہشت نگری اور کارخانو مارکیٹ میں شور 84 سے 86 ڈیسیبل تک ریکارڈ کیا گیا۔

ٹریفک وارڈنز سب سے زیادہ متاثر

شور سے سب سے زیادہ متاثر ٹریفک وارڈنز ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق ان میں سماعت کی کمی عام ہے۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ گھر میں بھی بلند آواز میں بات کرتے ہیں۔ انہیں اپنی آواز عام محسوس ہوتی ہے، لیکن اس سے خاندان متاثر ہوتا ہے۔

دیگر اضلاع میں صورتحال

خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں جیسے مردان، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں بھی شور بڑھ رہا ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات نے صنعتی یونٹس کو شور روکنے والی رکاوٹیں لگانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دیہی علاقوں میں بھی مسئلہ

اب یہ مسئلہ صرف شہروں تک محدود نہیں رہا۔ دیہی علاقوں میں بھی شور بڑھ رہا ہے۔

ضلع باجوڑ میں لاؤڈ اسپیکر، ٹیپ ریکارڈر اور گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اس کی بڑی وجہ ہے۔

صحت پر اثرات

ماہرین کے مطابق مسلسل شور میں رہنے سے سماعت متاثر ہوتی ہے۔

یہ اعصابی تناؤ، بے سکونی اور چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔ نیند متاثر ہوتی ہے۔ دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

حکومتی اقدامات

خیبر پختونخوا محکمہ تحفظ ماحولیات نئی فیکٹریوں اور تجارتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جائزہ لازمی قرار دے رہا ہے۔

اس کا مقصد شور کو قانونی حدود میں رکھنا ہے۔

عوامی سطح پر اقدامات کی ضرورت

ماہرین کے مطابق صرف حکومت پر انحصار کافی نہیں۔ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ڈرائیورز کو دباؤ والے ہارن کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

کاروباری مراکز میں لاؤڈ اسپیکر محدود استعمال کیے جائیں۔

شادی بیاہ میں آتش بازی کم کی جائے۔

گھروں میں ٹی وی کے استعمال کے اوقات مقرر کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

خنجراب نیشنل پارک: کنزرویشن ماڈل کامیاب، مقامی آبادی میں کروڑوں تقسیم

معجزاتی درخت کا پانی سے مائیکرو پلاسٹکس ختم کرنے میں انقلابی کردار سامنے آگیا

مردہ کچھوؤں کی لرزہ خیز دریافت مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

حل کی جانب قدم


اگر ہم مکمل نہیں تو جزوی طور پر بھی ان اقدامات پر عمل کریں تو بہتری ممکن ہے۔
صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے خود سے آغاز ضروری ہے۔

عالمی دن کی اہمیت

شور سے آگاہی کا عالمی دن ہر سال اپریل کے آخری بدھ کو منایا جاتا ہے

اس دن کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔

لوگوں کو شور کے اثرات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے تاکہ لوگ اپنے ماحول کے شور کو محسوس کر سکیں۔

admin

Recent Posts

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…

1 hour ago

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

21 hours ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

2 days ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

3 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

4 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

4 days ago

This website uses cookies.