فروزاں رپورٹ
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد کے ایف-6/3 ہِل ویو پارک میں شجرکاری مہم میں شرکت کی۔
یہ تقریب وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، پاک-ای پی اے اور سی ڈی اے کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ کوکا کولا نے بھی اس میں تعاون کیا۔
یہ شجرکاری مہم وزارت کی ’’کلین اینڈ گرین اسلام آباد‘‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد دارالحکومت میں سبزہ بڑھانا ہے۔ ساتھ ہی ماحول کو بہتر اور صحت مند بنانا بھی ہدف ہے۔
تقریب میں ایک مصوری مقابلہ بھی ہوا۔ مختلف اسکولوں کے طلبہ نے شرکت کی۔ انہوں نے “کلین اینڈ گرین اسلام آباد” کے موضوع پر پینٹنگز بنائیں۔
طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے شجرکاری میں بھی حصہ لیا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے طلبہ کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں منفرد سوچ ہوتی ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے تقریب میں ایک پودا بھی لگایا۔ انہوں نے شجرکاری مہم کے تسلسل پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت نے ایک عہد کیا ہے۔ ہر الرجی پیدا کرنے والے پیپر ملبری درخت کے بدلے تین نئے درخت لگائے جائیں گے۔ یہ مہم اسی وعدے کا حصہ ہے۔
انہوں نے کوکا کولا کے تعاون کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق ایسے اشتراکات دیگر اداروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں۔ اس سے قبل زونگ اور ہم نیٹ ورک کے ساتھ بھی مہمات ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ کوکا کولا نے 5,000 پودے فراہم کیے ہیں۔ ان کی حفاظت ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پودے مستقبل کے لیے اہم سرمایہ ہیں۔ وزارت اور دیگر ادارے بھی اس میں جوابدہ ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے حالیہ سیلابوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیلابوں میں 6 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔
کئی بچے اسکول واپس نہ جا سکے۔ وہ نقل مکانی کی وجہ سے متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان سے مستقبل کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ یہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کاربن کی زیادتی خطرناک ہے۔ اس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
کوکا کولا کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے کہا کہ کمپنی پائیدار ماحول کے لیے پرعزم ہے۔ وہ شراکت داریوں کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے وزارت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ 12 ماہ تک پودوں کی دیکھ بھال جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں
فوسل فیولز منتقلی:دنیا تیل اور کوئلے سے نجات کی جانب ایک نئی سمت میں داخل
گلگت بلتستان انتخابات: وال چاکنگ پر پابندی، ماحول ترجیح
تقریب میں سیکریٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، ڈائریکٹر جنرل پاک-ای پی اے اور انسپکٹر جنرل فاریسٹ بھی موجود تھے۔
انہوں نے شجرکاری مہم کو اہم قدم قرار دیا۔ یہ اقدام ماحولیاتی بہتری کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…
نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
This website uses cookies.