فروزاں رپورٹ
اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے خصوصی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ یہ کمیٹی جانوروں پر ظلم کی روک تھام اور فلاح و بہبود کیلئے قائم کی گئی ہے۔
یہ کمیٹی وزیر اعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کیلئے جامع پالیسی تیار کرنا ہے۔ اس میں جانوروں پر ظلم کے واقعات کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات تجویز کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔
اجلاس میں جانوروں کی فلاح و بہبود پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔
شرکاء نے اہم چیلنجز کی نشاندہی کی۔ ان میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری شامل ہے۔ قوانین میں سزاؤں کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے۔ موجودہ قوانین پر کمزور عملدرآمد بھی سامنے آیا۔ ویٹرنری سہولیات اور وسائل کی کمی بھی پائی گئی۔ عوامی آگاہی کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے قانونی ڈھانچے کے جائزے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کمزوریوں کی نشاندہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جرائم پر مؤثر کارروائی اسی صورت ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ “جانوروں پر ظلم انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں”۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان غیر قانونی جنگلی حیات کی اسمگلنگ سے متاثر ہے۔ ملک میں غیر قانونی تجارت جاری ہے۔
اس میں مختلف جانور اور پرندے شامل ہیں۔ باز، میٹھے پانی کے کچھوے اور بڑی بلیاں ان میں شامل ہیں۔ مگرمچھ، پرندے اور بندر بھی غیر قانونی تجارت کا حصہ ہیں۔
شرکاء نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں آوارہ کتوں کیلئے پروگرام جاری ہے۔ یہ پروگرام انسانی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔
اس کے تحت کتوں کو پکڑا جاتا ہے۔ ان کی نس بندی کی جاتی ہے۔ انہیں ویکسین بھی دی جاتی ہے۔ بعدازاں آوارہ کتوں کو دوبارہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
رضاکار ان کی دیکھ بھال میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں خوراک بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم مزید وسائل کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں غیر قانونی ڈاگ فائٹس پر تشویش ظاہر کی گئی۔ سوشل میڈیا پر تشدد پر مبنی ویڈیوز بھی زیر بحث آئیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں سے معلومات حاصل کی جائیں۔ اس سے مسئلے کی درست شدت سامنے آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں
برفانی چیتے کے حملے: گلگت بلتستان میں 65 سے زائد مویشی ہلاک، مقامی افراد پریشان
امن اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان پرعزم ہے، ڈاکٹر مصدق ملک
موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے صوبائی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے سول سوسائٹی اور ماہرین کو بھی شامل کرنے کی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر پروگرام مکمل کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اجلاس میں مختلف اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ ان میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ داخلہ اور اسلام آباد انتظامیہ شامل تھی۔ جانوروں کے تحفظ کی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.