فروزاں رپورٹ
برسلز: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، روزگار، خوراک، زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا بنیادی معاملہ ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک یورپی ادارے سینٹر فار یورپین پالیسی اسٹڈیز (سی ای پی ایس) کی خصوصی دعوت پر برسلز پہنچے ہیں۔
وہ “سرحد پار آبی وسائل: ایک ہتھیار بنتا عالمی اثاثہ” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ کانفرنس سی ای پی ایس (سی ای پی ایس)، یورپی یونین اور بیلجیئم و لکسمبرگ میں پاکستانی سفارت خانے کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے۔
کانفرنس میں سرحد پار آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی انصاف اور عالمی آبی سلامتی پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔
ان اہم موضوعات میں شامل ہیں
عالمی آبی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری
پانی کا بڑھتا ہوا جغرافیائی و سیاسی کردار
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: نمائشی ماحولیات کا پردہ فاش
موسمیاتی تبدیلی: 2.48 ارب روپے مختص، گرین پاکستان پروگرام کو بڑا حصہ
کانفرنس میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، سفارت کار، پالیسی ساز اور ماحولیاتی ماہرین شریک ہیں۔
یہ فورم پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…
انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…
کراچی پورٹ کوریڈور: رہائشی علاقوں کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی منظوری فوری طور پر روکنے…
لال مرچ اور بدلتا موسم، کنری کی پہچان، معیشت اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی اور…
جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن نے پلانٹ فار پاکستان گرین ویک کے تحت لاڑکانہ…
یورپ میں گرمی کی پانچویں لہر سے کاروبار متاثر، معیشت و پیداواری صلاحیت میں کمی،…
This website uses cookies.