Environmental Reports

نیپال میں تباہ کن سیلاب: موسمیاتی بحران یا ناانصافی؟

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد کیریٹاس نے کہا کہ کم اخراج والے ممالک موسمیاتی تبدیلی کے شکار ہیں، عالمی تعاون ضروری ہے۔

نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور عالمی موسمیاتی انصاف کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ کیریٹاس نیپال کی سربراہ سسٹر سیسیلیا درگا شریستھا نے کہا ہے کہ عالمی ماحولیاتی بحران میں انتہائی کم حصہ رکھنے والے نیپالی عوام کا اس کی تباہ کاریوں کا سب سے زیادہ شکار ہونا شدید ناانصافی ہے۔

26 اگست کو نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ گھروں، زمینوں، سڑکوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے۔ حکام کے مطابق ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔

سسٹر سیسیلیا درگا شریستھا کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی فوری ضرورت محفوظ رہائش، خوراک، پانی، طبی سہولیات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اپنا گھر اور ذریعہ معاش کھو دیا ہے، انہیں ہنگامی امداد کے ساتھ طویل المدتی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیپالی حکومت اکیلے اس بڑے بحران سے نہیں نمٹ سکتی۔ قومی اداروں کے ساتھ عالمی تنظیموں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کو بھی بحالی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

لیکن اس کے باوجود ہمالیائی علاقوں میں رہنے والی آبادی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔

نیپال کا عالمی اخراج میں حصہ نہایت کم

کیریٹاس نیپال کی سربراہ نے موسمیاتی انصاف کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیپال عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 0.1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود ہمالیائی علاقوں میں رہنے والی آبادی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی واضح مثال ہے کہ موسمیاتی بحران کا ذمہ دار نہ ہونے کے باوجود غریب اور کمزور ممالک اس کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

سسٹر سیسیلیا نے کہا کہ اب صرف عالمی کانفرنسوں، وعدوں اور اعلانات کا وقت نہیں رہا بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ان کے بقول موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت میں اضافہ، موافقت کے منصوبوں میں مدد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام کی تشکیل ضروری ہے۔

نیپال میں حالیہ تباہی نے ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے خدشات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔

گلیشیئرز کا پگھلاؤ خطرے کی گھنٹی

نیپال میں حالیہ تباہی نے ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے خدشات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت خطے کے گلیشیئرز اور برفانی جھیلوں کو غیر مستحکم کر رہا ہے، جس سے اچانک سیلاب جیسے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

کیریٹاس کی سربراہ کے مطابق نیپال کا حالیہ سانحہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ آج ہی انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن لوگوں نے عالمی موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں معمولی کردار ادا کیا، انہیں ہی اس کے تباہ کن نتائج کیوں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

’’موسمیاتی انصاف خیرات نہیں‘‘

سسٹر سیسیلیا نے کہا کہ متاثرہ ممالک کو امداد دینا محض خیرات نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کا حصہ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا ہوگی تاکہ کمزور ممالک مستقبل میں ایسے سانحات کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نیپال کو صرف فوری انسانی امداد نہیں بلکہ گھروں کی تعمیر، روزگار کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ مستقبل کے لیے بھی عالمی تعاون درکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘ اور دنیا مزید انتظار نہیں کر سکتی۔

کیریٹاس نیپال کو اس نوعیت کے بڑے قدرتی سانحات سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے۔

متاثرین کے لیے کیریٹاس کی امدادی سرگرمیاں

کیریٹاس نیپال سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت اور دیگر ضروری اشیا فراہم کر رہا ہے۔

ادارہ فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں کی ابتدائی بحالی، تعمیر نو اور لوگوں کے روزگار کی بحالی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔

کیریٹاس نیپال کو اس نوعیت کے بڑے قدرتی سانحات سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے۔ 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی ادارے نے امدادی سرگرمیوں، بحالی اور تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

اے ٹوینٹی تھری اے: 40 سال بعد آئس برگ کا خاتمہ

ایل نینو اور موسمیاتی بحران کا خطرناک تعلق

عالمی برادری سے طویل المدتی تعاون کی اپیل

سسٹر سیسیلیا نے مشکل وقت میں نیپال کا ساتھ دینے والے امدادی اداروں، عطیہ دہندگان اور کیتھولک چرچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تعاون صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ گھروں، بحال شدہ روزگار اور بہتر بنیادی سہولیات کے ساتھ دوبارہ زندگی شروع کرنے کا موقع دینا ہوگا۔

ان کے مطابق مقصد صرف تباہ شدہ علاقوں کو پہلے جیسا بنانا نہیں بلکہ انہیں پہلے سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہونا چاہیے۔

سسٹر سیسیلیا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ نیپال کے عوام کو ایسے بحران کی قیمت اپنی جانوں سے نہیں چکانی چاہیے جس میں ان کا حصہ انتہائی کم ہے۔ ان کے بقول یہ وقت عالمی سطح پر ذمہ داری، یکجہتی اور موسمیاتی انصاف کے لیے عملی اقدام کا ہے۔

admin

Recent Posts

اقوام متحدہ کا انتباہ، سیاسی تقسیم سے معیشت کو خطرہ

اقوام متحدہ کا موسمیاتی انتباہ، یورپ میں شدید موسم سے معاشی و سلامتی کے خطرات،…

4 hours ago

گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام

گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں استور مارخور کا لائسنس ریکارڈ 3 لاکھ 56 ہزار…

1 day ago

فہد ہارون کی صحافیوں سے ملاقات، ڈیجیٹل میڈیا پر تبادلہ خیال

ڈیجیٹل میڈیا میں ذمہ دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی ضروری ہے،وزیر مملکت و…

3 days ago

قرض کا بوجھ: بنگلہ دیش کے موسمیاتی عزائم عالمی مالیاتی بحران کی زد میں

قرض بڑھنے، عالمی تجارت سست اور شپنگ و توانائی مہنگی ہونے سے بنگلہ دیش کے…

3 days ago

ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ ارجنٹائن کی وائرل ویڈیوز کا اصل راز

ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ وائرل ویڈیوز نے قیامت کی افواہ پھیلائی، حقیقت میں تیز ہواؤں،…

4 days ago

انتہائی طاقتور ال نینو: پاکستان کے لیے ایک اور سنگین موسمیاتی انتباہ

انتہائی طاقتور ال نینو کے خطرے کے پیشِ نظر وقت آگیا ہے کہ پاکستان امداد…

4 days ago

This website uses cookies.