حیدر خان حیدر، ضلع نگر
گلگت بلتستان کے بلند و بالا برف پوش پہاڑوں اور وسیع رقبوں پر پھیلے ہوئے قدرتی گلیشیئرز نہ صرف سرزمینِ گلگت بلتستان کی پہچان ہیں بلکہ ارضِ وطن پاکستان کی عالمی شہرت کی نمایاں علامت بھی ہیں۔ ہماری پاک سرزمین انہی گلیشیئرز سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔
گلیشیئر انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کے لیے اردو میں برف زار، برفانی ذخیرہ، آبی سرچشمہ اور یخ بستہ قطعۂ زمین جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، تاہم عام بول چال میں انگریزی لفظ ’’گلیشیئر‘‘ ہی زیادہ مستعمل ہے۔
علمِ جغرافیہ اور ماحولیات کے ماہرین کے نزدیک برف زاروں کی تین مشہور اقسام ہیں:
کوہستانی برف زار
دامنِ کوہی برف زار
براعظمی برف زار
گلگت بلتستان میں کوہستانی برف زاروں کا ایک خوبصورت اور دلفریب جال بچھا ہوا ہے، جس کا شمار قطبین سے باہر موجود بڑے برفانی ذخائر میں ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سرزمین میں پانچ بڑے مشہور گلیشیئرز کے علاوہ تقریباً 90 چھوٹے گلیشیئرز بھی موجود ہیں۔
دنیا کا مشہور ترین سیاچن گلیشیئر بلتستان میں واقع ہے، جو 46 میل تک پھیلا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، بیافو گلیشیئر اور بلتورو گلیشیئر بھی بلتستان میں واقع ہیں، جن کی طوالت بالترتیب 37 میل اور 36 میل ہے۔ گلگت بلتستان کا تیسرا بڑا گلیشیئر ہسپر ہے، جو ضلع نگر میں واقع ہے اور اس کی طوالت 36.63 میل بیان کی جاتی ہے۔ اسی خطے کا ایک اور بڑا گلیشیئر بٹورا ضلع ہنزہ میں واقع ہے، جس کی لمبائی بھی 36 میل بیان کی گئی ہے۔
یہی برف زار یا گلیشیئرز ارضِ گلگت بلتستان کے لیے خدا تعالیٰ کا عظیم عطیہ ہیں۔ یہ نہ صرف قدرتِ الٰہی کی صناعی کے مظہر ہیں بلکہ ہمارے لیے آبی ذخائر کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ ہمارے دریاؤں کا تقریباً 90 فیصد پانی انہی برفانی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔
اس علاقے میں قدرتی طور پر برف پگھلنے کا عمل عموماً اپریل میں شروع ہوتا ہے اور وسطِ اگست تک جاری رہتا ہے۔ تاہم اس وقت پوری دنیا کو جس ماحولیاتی عفریت اور آفت کا سامنا ہے، وہ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے، جسے عالمی حدت کہا جاتا ہے۔
دنیا میں موسمیاتی تبدیلی، یعنی بے وقت آندھی، طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات، عالمی حدت کے نمایاں اثرات ہیں۔ عالمی حدت کی اس آفت نے جہاں انسانی اور حیوانی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، وہیں گلیشیئرز جیسے ہمارے عظیم قدرتی وسائل کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
موسمِ گرما کے دوران کرۂ ارض کی بڑھتی ہوئی حرارت کسی زمانے میں صرف گنجان آباد صنعتی ممالک یا بڑے شہروں کے لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی تھی۔ دیہی علاقوں کے لوگ، بالخصوص گلگت بلتستان کے باسی، موسمِ گرما کی حرارت کو نسبتاً آسانی سے برداشت کر لیتے تھے، لیکن اب یہاں بھی درجہ حرارت لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
اسی وجہ سے گرمی کے ایام میں ٹھنڈے مشروبات کے لیے قدرتی برف کے استعمال کی طلب بڑھنے لگی ہے۔ لوگوں کی اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے علاقے کے بعض بے روزگار افراد نے گلیشیئرز سے برف نکال کر اس کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔
یہ کاروباری افراد یا ان کے مخصوص مزدور صبح سویرے برف زاروں میں پہنچ جاتے ہیں اور تیز کلہاڑیوں، خودکار آرا مشینوں یا لوہے کی مضبوط سلاخوں کے ذریعے برف کے بڑے بڑے تودوں کو مخصوص انداز میں کاٹتے ہیں۔ پھر انہیں گھاس، بھوسے یا لکڑی کے برادے میں لپیٹ کر اپنی پیٹھ یا گدھوں پر لاد کر قریبی سڑک تک پہنچایا جاتا ہے۔
وہاں سے یہ برف ٹریکٹروں یا ٹویوٹا گاڑیوں کے ذریعے گلگت بلتستان کے شہروں اور میدانی علاقوں تک پہنچائی جاتی ہے، جہاں سڑکوں پر کھلے عام اس کی تجارت شروع ہو جاتی ہے۔ قدرتی برف بازاروں اور مشروبات کے اسٹالوں پر فروخت ہونے کے علاوہ گھروں تک لے جانے کا رواج بھی عام ہو چکا ہے۔
اس عمل کے دوران روزانہ بعض گلیشیئرز سے ٹنوں کے حساب سے قدرتی برف نکال کر فروخت کی جاتی ہے۔
قدرتی برف کے اس کاروبار میں ہماری لاشعوری کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف ہم عالمی درجہ حرارت میں بے پناہ اضافے کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل پر ماتم کناں ہیں، تو دوسری طرف خود ہی ان قدرتی برف زاروں کی تباہی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ ٹھنڈے مشروبات کے لیے قدرتی برف کا غیر محتاط استعمال ہماری صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ہم میں سے کسی باشعور فرد میں یہ احساس نمایاں نہیں کہ علاقائی سطح پر کوئی ماحولیاتی تنظیم تشکیل دے کر اپنے علاقے کے قدرتی وسائل کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہاں تک کہ متعلقہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اس کاروبار کو روکنے کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے پا رہے۔
اس کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے دنوں میں گلیشیئرز سے جو برف اٹھائی جاتی ہے، اگلے موسمِ سرما کی برف باری سے اس کمی کو قدرتی طور پر پورا کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق گلیشیئرز سے برف نکالنے کے کاروبار کا ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
تاہم ماہرین کے نزدیک یہ دلیل بے بنیاد اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ ماہرین کے بقول گلیشیئرز کے حساس حصوں کو بار بار توڑنے سے ان کی قدرتی ساخت کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔
علاوہ ازیں، عالمی حدت کے باعث اب موسمِ سرما میں اتنی برف باری نہیں ہوتی جتنی پہلے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ یوں گلیشیئرز پر برف کی افزائش کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے۔
اس صورتِ حال میں سالانہ کم از کم پانچ ماہ تک گلیشیئرز سے برف کی مسلسل قطع و برید ان کی پسپائی کا سبب بن رہی ہے، جو مستقبل کی نسلوں کے لیے آبی قلت کا موجب بن سکتی ہے۔
گوگل رپورٹ کے مطابق، ماحول دشمنی پر مبنی اس تجارت کے باعث گلگت بلتستان کے جن مضافاتی علاقوں کے قریبی گلیشیئرز کو پسپائی کا خطرہ لاحق ہے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ضلع گلگت میں وادی بگروٹ، ہراموش اور نلتر بالا کے قریبی گلیشیئرز سے سالانہ تقریباً چار ماہ تک برف فروشی کا عمل جاری رہتا ہے۔
سدپارہ جھیل کے بالائی علاقوں کے علاوہ ضلع سکردو میں دیوسائی کے گلیشیئرز سے بھی قدرتی برف کی تجارت کی جاتی ہے۔
ضلع استور میں وادی راما اور نانگا پربت کے گلیشیئرز سے برف کی کٹائی کی جاتی ہے۔
ضلع نگر میں پسن، مناپن اور ہوپر کے گلیشیئرز سے یہ موسمی کاروبار کیا جاتا ہے۔
پسو گلیشیئر ضلع ہنزہ میں اس تجارت کی زد میں ہے، جبکہ نسبتاً گرم وادیوں کے قریبی گلیشیئرز کو ضلع دیامر میں بھی شدید نقصان کا سامنا ہے۔
اس دور کی نام نہاد مادی ترقی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اس موسمی اور وقتی کاروبار سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بعض مقامی مفاد پرست لوگ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ان قدرتی وسائل تک سڑکیں تعمیر کروانے پر زور دیتے ہیں، جو علاقے کے قدرتی وسائل کے لیے کسی صورت نیک شگون نہیں۔
اس سے نہ صرف علاقے کے قیمتی برف زاروں کی تباہی تیز ہو سکتی ہے بلکہ قریبی جنگلات اور معدنیات کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یوں ہماری مستقبل کی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کا ایک بڑا حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
گلیشیئرز منجمد آبی ذخائر ہیں، جن کی حفاظت ہم سب کی ملی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے، تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی ان وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: سلواتا نے انسانی بحران اجاگر کردیا
گلیشیئرز سمیت تمام دیگر قدرتی وسائل خدا تعالیٰ کی امانت ہیں اور ہم ان کے امین ہیں۔ امین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امانت کو اس کے تمام حقداروں تک پہنچانے کی فکر کرے، نہ کہ اسے خود ہڑپ کرکے خیانت کا مرتکب ہو۔
قدرتی برف کی یہ سوداگری ایک قسم کی اجتماعی خیانت، بلکہ فطرت سے بغاوت کے مترادف ہے۔ فطرت بہت طاقتور ہے، یہ انسانوں کی غلطی کبھی معاف نہیں کرتی۔
بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال:
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں استور مارخور کا لائسنس ریکارڈ 3 لاکھ 56 ہزار…
قرض بڑھنے، عالمی تجارت سست اور شپنگ و توانائی مہنگی ہونے سے بنگلہ دیش کے…
ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ وائرل ویڈیوز نے قیامت کی افواہ پھیلائی، حقیقت میں تیز ہواؤں،…
انتہائی طاقتور ال نینو کے خطرے کے پیشِ نظر وقت آگیا ہے کہ پاکستان امداد…
کراچی میں اگست کی بارشیں کم ہونے سے زیرِ زمین پانی کی بحالی، شہری گرمی،…
موسم کی کروٹ، 22 بھادوں کے بعد تبدیلی شروع، اسّو 15 ستمبر سے، شمالی ہوائیں…
This website uses cookies.