فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات 2026 میں مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں موسموں کا روایتی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اب گرمی، سردی، بہار اور خزاں کا انداز پہلے جیسا نہیں رہا۔
بچپن میں موسموں کا ایک واضح کیلنڈر ہوا کرتا تھا۔ لوگ اندازہ لگا لیتے تھے کہ گرمی کب آئے گی اور سردی کب جائے گی۔ مگر اب یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسم اب صرف قدرتی عمل نہیں رہے۔ انسانی سرگرمیاں بھی اس میں بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔
کبھی اپریل میں جون جیسی شدید گرمی محسوس ہوتی ہے، تو کبھی سردیوں کا موسم غیر معمولی طور پر مختصر ہو جاتا ہے۔
دنیا کے مختلف حصے شدید ہیٹ ویوز، جنگلاتی آگ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور غیر معمولی بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی موسمیاتی اداروں کے مطابق حالیہ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سالوں میں شامل رہے ہیں۔
یورپ اور امریکہ میں ریکارڈ توڑ گرمی نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے۔
ایشیا کے کئی ممالک میں سیلاب اور طوفان معمول بنتے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر کاربن اخراج نہ روکا گیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہے۔ اگرچہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ کم ہے، مگر اثرات زیادہ شدید ہیں۔
سال 2022 کے تباہ کن سیلاب اس کی بڑی مثال ہیں۔ حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں بھی خطرے کی علامت ہیں۔
شمالی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ شہروں میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق درختوں کی کٹائی، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، پلاسٹک آلودگی اور وسائل کا غیر متوازن استعمال موسمیاتی بگاڑ کی بڑی وجوہات ہیں۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں موسموں کی پہچان مشکل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف حکومتوں پر انحصار کافی نہیں۔ عوام کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔
درخت لگانا، پانی اور بجلی کی بچت، پلاسٹک سے اجتناب اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا اب ضرورت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں کیوں دھنس رہا ہے
شدید گرمی کا خطرہ: فیفا ورلڈ کپ کے لیے ماہرین کا الرٹ
موسم تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اگر انسان نے اپنی عادات نہ بدلیں تو زمین کا ماحول مزید سخت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.