Environmental News

شمالی پاکستان میں گلوف الرٹ، فلیش فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا

گلوف خطرہ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ

اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے شمالی پاکستان کے مختلف علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب، یعنی گلوف، کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک معتدل سلسلہ بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے۔ اس موسمی نظام کے باعث بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلیں پھٹ سکتی ہیں۔

بارشوں کا نیا سلسلہ کہاں اثر انداز ہوگا؟

محکمہ موسمیات کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق یہ موسمی نظام آج سے خیبرپختونخوا میں داخل ہوگا۔ کل تک اس کے گلگت بلتستان تک پھیلنے کا امکان ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران پہاڑی علاقوں کے بعض مقامات پر شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔

کن علاقوں میں زیادہ خطرہ ہے؟

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلیں پھٹ سکتی ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

خصوصی طور پر سوات، لوئر چترال، دیر، اپر ہزارہ، کوہستان، ہوپر، گلکن ششپر، غذر، ہنزہ، نگر، گانچھے، شگر اور استور کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

عوام کیلئے احتیاطی ہدایات

محکمہ موسمیات نے گلیشیائی وادیوں میں رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بارش کے دوران دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب نہ جائیں۔

پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا غیر معمولی آوازوں پر فوری توجہ دیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مویشیوں اور ضروری سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں سے مسلسل رابطہ بھی رکھا جائے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رابطہ نظام فعال رکھا جائے۔

الرٹ کو سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس کے ذریعے دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔

گلگت بلتستان انتخابات: وال چاکنگ پر پابندی، ماحول ترجیح

پنجاب میں موسمیاتی نقل مکانی بڑا چیلنج، 2025 کے سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر

اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

محکمہ موسمیات نے متعلقہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹنا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شمالی پاکستان میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

اس صورتحال سے مقامی آبادی، انفراسٹرکچر اور زرعی زمینوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

51 minutes ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

21 hours ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

2 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

2 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

3 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

4 days ago

This website uses cookies.