Environmental News

ای وی ٹرانسپورٹ: کیا پاکستان فوری تبدیلی نہ لایا تو معاشی بحران مزید بڑھے گا؟

ماہرین کا مطالبہ، 2030 کے بجائے 2028 تک اہداف مکمل کیے جائیں، فوری پالیسی اقدامات اور سرمایہ کاری ناگزیر قرار

اسلام آباد میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور توانائی خطرات کے باعث ٹرانسپورٹ نظام کو فوری طور پر برقی گاڑیوں (ای وی) کی طرف منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

یہ مطالبہ پائیدار ترقی کے پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آیا۔ اجلاس میں توانائی اور معیشت سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی درآمدات قومی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔

تیل پر انحصار، معیشت پر بوجھ

ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی درآمدات قومی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ عالمی غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے توانائی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

شرکاء نے زور دیا کہ موجودہ حالات فوری پالیسی تبدیلی کے متقاضی ہیں۔

اجلاس میں حکومت کو تجویز دی گئی کہ ای وی اہداف 2030 کے بجائے 2028 تک مکمل کیے جائیں۔

اہداف میں تیزی کی تجویز

اجلاس میں حکومت کو تجویز دی گئی کہ ای وی اہداف 2030 کے بجائے 2028 تک مکمل کیے جائیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی کا ایک حصہ ای وی شعبے کے لیے مختص کیا جائے۔ پبلک اور نجی سرمایہ کاری سے مالی رکاوٹیں دور کی جائیں۔

سپلائی چین بھی بڑا چیلنج

ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ عالمی بحران صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں۔ یہ سپلائی چین کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس صورتحال کو ٹرانسپورٹ اصلاحات کے موقع کے طور پر استعمال کیا جائے۔

توانائی کے متبادل ناگزیر

انجینئر عبیدالرحمن ضیاء نے خبردار کیا کہ اصل مسئلہ قیمتوں کا اتار چڑھاؤ نہیں۔ اصل خطرہ سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹیں ہیں۔

ان کے مطابق متبادل توانائی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پالیسی اصلاحات اور جدت کی ضرورت

ڈاکٹر نوید ارشد نے کہا کہ سخت اور پیچیدہ قوانین جدت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے سادہ اور لچکدار پالیسیوں پر زور دیا۔

ڈاکٹر عازر انور خان کے مطابق پاکستان کو چین کے تجربات سے سیکھنا ہوگا۔ توانائی، ای وی اور بیٹری انڈسٹری کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

انہوں نے بیٹری سوئپنگ سسٹم اور اسپیئر پارٹس مارکیٹ کے فروغ کی تجویز بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں

لیبر ڈے 2026: موسمیاتی تبدیلی اور پاکستانی مزدور، روزگار اور بقا کا بحران

ہیٹ ویو الرٹ: سندھ میں درجہ حرارت معمول سے 6 ڈگری تک بڑھنے کا امکان

قدرت کے آخری قلعے: زمین کو بچانے کی آخری امید؟

انفراسٹرکچر اور تربیت پر زور


ماہرین نے چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع پر زور دیا۔ کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی بھی ضروری قرار دی گئی۔

تکنیکی تربیت اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو بھی اہم بتایا گیا۔

نتیجہ اور عزم


اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ ای وی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔ اس سے درآمدی بوجھ کم ہوگا۔ ماحول دوست اور کم خرچ ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ ملے گا۔

admin

Recent Posts

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

7 hours ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

This website uses cookies.