عالمی خلائی ہفتہ 2026 کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسپارکو حکام اور طلبہ کا گروپ فوٹو۔
اسپارکو ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین اسپارکو محمد یوسف خان نے عالمی خلائی ہفتہ 2026 کا افتتاح کیا۔
اسلام آباد(فرحین العاص) اسپارکو کے زیر اہتمام عالمی خلائی ہفتہ 2026 کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ اس سلسلے میں سپارکو ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں چیئرمین اسپارکو محمد یوسف خان نے عالمی خلائی ہفتہ 2026 کا افتتاح کیا۔
اس سال عالمی خلائی ہفتے کا موضوع ’’راکٹ انقلاب‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت راکٹ ٹیکنالوجی، خلا تک رسائی، سائنسی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کے زمینی فوائد کو اجاگر کیا جائے گا۔
چیئرمین اسپارکو محمد یوسف خان نے کہا کہ پاکستان میں خلائی سائنس اور تحقیق کے حوالے سے عوام، خصوصاً طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
اسپارکو کے مطابق ایک پاکستانی خلا باز کو چینی خلائی اسٹیشن پر پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
:یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں اسموگ بحران اور جدید حل
پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ قمری روور چین کے چانگ ای-8 مشن کا حصہ ہوگا۔ اسپارکو کے مطابق روور کو چاند کے جنوبی قطب تک بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ جس سے پاکستان کی خلائی تحقیق میں شمولیت مزید نمایاں ہوگی۔
ڈی جی اسپارکو نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی سائنسی تحقیق اور خلائی کھوج میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تقریب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا تک رسائی اور اس کے زمین پر ممکنہ فوائد کو بھی اجاگر کیا گیا۔
سیکریٹری اسپارکو بریگیڈیئر منیر احمد اسد (ر) نے عالمی خلائی ہفتے کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ اسپارکو کے مطابق ادارہ 2005 سے عالمی خلائی ہفتہ ایسوسی ایشن کے ساتھ بطور قومی رابطہ کار وابستہ ہے۔
اسپارکو کا کہنا ہے کہ ادارہ 2013 سے عالمی خلائی ہفتے کی سرگرمیوں میں مسلسل پہلی تین پوزیشنز میں شامل رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں بیکن ہاؤس اسکول ٹیپو سلطان کیمپس کے طلبہ نے ’’راکٹ انقلاب‘‘ کے موضوع پر رنگا رنگ خاکہ پیش کیا۔
طلبہ نے راکٹ ٹیکنالوجی کے حق اور مخالفت میں دلائل پیش کیے۔ اور خلائی تحقیق کی اہمیت، اس کے ممکنہ فوائد اور مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
عالمی خلائی ہفتہ 2026 کے دوران تعلیمی، سائنسی اور آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد طلبہ اور نوجوانوں میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔
اسپارکو نے نوجوان نسل کو خلائی سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی جانب راغب کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق عالمی خلائی ہفتہ نوجوانوں کو خلائی شعبے میں پاکستان کے کردار اور مستقبل کے مواقع سے آگاہ کرنے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
This website uses cookies.