فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب سمندری حیات کے ساتھ ساحلی علاقوں میں رہنے والے پرندوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ پفن نامی سمندری پرندہ بھی ان خطرات کی زد میں ہے۔ اپنی رنگین چونچ، منفرد شکل اور دلچسپ حرکات کے باعث پہچانا جانے والا یہ پرندہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ تاہم، بدلتا موسم اس کی بقا کے لیے بڑے چیلنج پیدا کر رہا ہے۔
ماضی میں پفن پرندوں کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا تھا۔ لوگ افزائش نسل کے مقامات سے ہزاروں پرندے خوراک اور پروں کے حصول کے لیے پکڑتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بارے میں انسانی رویہ تبدیل ہوا۔ اب یہ پرندے اپنی خوب صورتی اور منفرد انداز کے باعث تحفظ کی اہمیت رکھنے والی سمندری حیات میں شمار ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندروں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اس تبدیلی سے چھوٹی مچھلیوں اور دیگر سمندری جانداروں کی تقسیم متاثر ہو رہی ہے۔ پفن پرندوں کی اہم خوراک میں شامل سینڈ ایلز جیسی مچھلیاں ٹھنڈے پانیوں کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں۔ بعض علاقوں میں ان کی تعداد کم ہونے سے پرندوں کے لیے خوراک حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جب پفن پرندوں کو خوراک کی تلاش میں زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے تو ان کے بچوں تک خوراک پہنچانے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً بچوں کے زندہ رہنے اور گھونسلے سے اڑنے کے قابل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ جو بچے گھونسلوں سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں، ان کے لیے بھی ابتدائی زندگی کے مراحل میں زندہ رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
شدید موسمی واقعات بھی ان پرندوں کے لیے خطرات بڑھا رہے ہیں۔ خزاں اور سردیوں میں آنے والے طاقت ور طوفان سمندری پرندوں کی اموات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی ان کی افزائش نسل کے ساتھ ان کی بقا کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
پفن پرندوں کو درپیش مسائل صرف موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں۔ سمندری آلودگی، خصوصاً تیل اور پلاسٹک کا پھیلاؤ، ان کی زندگی کے لیے اضافی خطرات پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ افزائش نسل کے مقامات پر انسانی سرگرمیوں سے خلل، شکاری جانوروں کی موجودگی اور گھونسلوں کے لیے موزوں جگہوں کی کمی بھی ان کی افزائش کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان خطرات پر قابو نہ پایا گیا تو اس صدی کے وسط تک پفن پرندوں کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بعض اندازوں میں ان کی ممکنہ آبادی کے 90 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس پیش گوئی کو یقینی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
سنہ 2026 کے آغاز میں یورپ کے مختلف ساحلی علاقوں میں شدید سردیوں کے طوفانوں کے بعد بڑی تعداد میں سمندری پرندے مردہ یا نڈھال حالت میں پائے گئے۔ برطانیہ کے علاقے کارن وال، اسکاٹ لینڈ اور شمال مشرقی انگلینڈ کے ساحلوں پر پفن، گِلموٹ اور ریزر بل جیسے پرندے بہہ کر پہنچے۔
تحفظِ فطرت سے وابستہ اداروں نے فرانس، اسپین اور پرتگال کے بحرِ اوقیانوس سے متصل ساحلی علاقوں میں بھی 20 ہزار سے زائد پرندوں کے پھنسنے کی اطلاعات دیں۔ ان میں بڑی تعداد پفن پرندوں کی بتائی گئی۔
برطانوی ادارے آر ایس پی بی کے سینئر میرین افسر سیموئل وروبل کے مطابق، یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران سمندری پرندوں کی سب سے سنگین اموات میں سے ایک تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ برڈ فلو کے اثرات کے بعد یہ صورت حال سمندری پرندوں کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔
چونکہ متعدد پرندے سمندر ہی میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور ساحلوں تک نہیں پہنچتے، اس لیے اصل اموات کی تعداد معلوم اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
خطرات کے باوجود ماہرین کو امید ہے کہ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پفن پرندوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے سائنس دان ان پرندوں کی نقل و حرکت، خوراک کی تلاش اور سمندر میں ان کے سفر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ماہرِ سمندری پرندوں پیٹر ہیریسن کے مطابق، ماضی میں افزائش نسل کے موسم کے بعد پفن پرندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات محدود تھیں۔ وہ سمندر میں چلے جاتے اور اگلے موسم میں دوبارہ اپنے افزائشی مقامات پر دکھائی دیتے تھے۔
تاہم، گزشتہ چار دہائیوں میں ٹریکنگ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی سے سائنس دانوں کو ان کی نقل و حرکت، سمندر میں موجودگی اور خوراک تلاش کرنے کے اہم علاقوں کی شناخت میں مدد ملی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ان معلومات کی مدد سے ایسے سمندری علاقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں پرندوں کو خوراک ملتی ہے اور جہاں انہیں تحفظ کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس طرح تحقیق کے نتائج مستقبل کی ماحولیاتی پالیسیوں اور تحفظ کے منصوبوں میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
سنہ 2004 میں برڈ لائف انٹرنیشنل نے سمندری پرندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے برڈ لائف سی برڈ ٹریکنگ ڈیٹا بیس قائم کیا۔ اس منصوبے کا مقصد مختلف ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرنا اور پرندوں کی افزائش کے مقامات سے دور سمندر میں ان کی سرگرمیوں کو سمجھنا تھا۔
اس تحقیق کے ذریعے پرندوں کے سفر کے کئی ایسے سمندری راستوں کی نشاندہی میں مدد ملی جو پہلے پوری طرح معلوم نہیں تھے۔ ان معلومات سے دنیا بھر کے سائنس دان سمندری پرندوں کی نقل و حرکت اور ان کے تحفظ کے لیے بہتر حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پفن اور اس سے ملتے جلتے پرندے سمندری ماحول کی صحت جانچنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ان کی آبادی میں تبدیلیاں سمندر میں خوراک کی دستیابی اور ماحولیاتی حالات کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی موسمیاتی تنظیم میں پاکستان کی بڑی تقرری
موسمیاتی تبدیلی بے قابو، 2050 سے پہلے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کے مطابق، پفن پرندوں کی ایک اہم خصوصیت ان کی نسبتاً طویل عمر ہے۔ اگرچہ یہ پرندے خوراک کی کمی، آلودگی اور شدید موسم سے متاثر ہوتے ہیں، تاہم مناسب حالات میں ان کی آبادی بحال ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
افزائش نسل کے مقامات سے نقصان دہ شکاری جانوروں کو ہٹانا، خوراک کے ذخائر کا تحفظ اور سمندری آلودگی کم کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔
امریکا میں پفن پرندوں کی آبادی بحال کرنے کے لیے طویل عرصے سے کام کرنے والے سائنس دان اسٹیفن کریس کے مطابق، ان پرندوں کی تعداد میں کمی کا تعلق بڑی حد تک انسانی سرگرمیوں سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں ممکن ہو، انسانوں کو قدرتی ماحول کی بحالی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
ماہرین کا مجموعی مؤقف ہے کہ پفن پرندوں کا مستقبل سمندری ماحول کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، آلودگی پر قابو پانے اور سائنسی تحقیق کو فروغ دینے سے ان پرندوں کی بقا کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
This website uses cookies.