Environmental Reports

روس میں طاعون کا خطرہ ،5 مراکز قرنطینہ، محققہ ہلاک

روس میں طاعون کا خطرہ، ارکتسک میں 5 طبی مراکز قرنطینہ، 197 افراد سخت نگرانی میں، تمام ابتدائی ٹیسٹ منفی آئے۔

روس کے سائبیریا خطے میں طاعون کے ایک کیس کے بعد تشویش بڑھ گئی ہے۔ پانچ طبی مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ قریبی ایلومینیم پلانٹ میں ملازمین کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ترکیے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق روس کے ارکتسک ریجن میں 27 سالہ خاتون محقق کی طاعون سے موت کے بعد یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ خاتون ارکتسک کے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتی تھیں، جہاں خطرناک جراثیم پر تحقیق کی جاتی ہے۔

آزاد روسی میڈیا ادارے لیوڈی بائیکالا اور دی ماسکو ٹائمز کے مطابق قرنطینہ کیے گئے طبی مراکز میں ارکتسک کے میونسپل اسپتال نمبر ایک، نمبر تین اور نمبر 10 شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایوانو ماتریننسکایا چلڈرن اسپتال اور ایک زچگی اسپتال بھی قرنطینہ میں ہیں۔

ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ اسپتال کا عملہ کھلے عام طاعون کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ تاہم سرکاری دستاویزات میں بیماری کا نام باضابطہ طور پر درج نہیں کیا گیا۔

علاقائی حکام نے 2 اکتوبر کو ارکتسک ریجن کی ایک خاتون کی طاعون سے موت کی تصدیق کی تھی۔

27 سالہ محققہ کی موت

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون داریا شپیلوا کی عمر 27 سال تھی۔ وہ ارکتسک اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ کی ملازم تھیں۔

علاقائی حکام نے 2 اکتوبر کو ارکتسک ریجن کی ایک خاتون کی طاعون سے موت کی تصدیق کی تھی۔

داریا شپیلوا کے طاعون کا شکار ہونے کی وجہ سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک دعوے کے مطابق 25 ستمبر کو لیبارٹری میں طاعون کے جراثیم رکھنے والی شیشی ٹوٹ گئی تھی۔

دوسری اطلاع کے مطابق داریا حال ہی میں بوریاتیا کے علاقے سے کام کے سلسلے میں واپس آئی تھیں۔ وہاں منگولیا کی سرحد کے قریب بیماری کا ایک پھیلاؤ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

داریا کو 29 ستمبر کو نمونیا جیسی علامات کے ساتھ شیلیخوف کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، تاہم چند روز بعد ان کی موت ہوگئی۔

بعد ازاں اس اسپتال کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا گیا۔

لیوڈی بائیکالا کے مطابق داریا سے رابطے میں آنے والے 197 افراد کی نشاندہی کی گئی۔

197 افراد کی نگرانی شروع

طاعون کے ممکنہ مریض سے رابطے میں آنے والے افراد کی بھی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔

لیوڈی بائیکالا کے مطابق داریا سے رابطے میں آنے والے 197 افراد کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 189 کو طبی نگرانی کے لیے اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔

ان میں 114 افراد کو ایک طبی مرکز، 63 کو دوسرے مرکز جبکہ 12 افراد کو اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر سے ان افراد کو ٹیسٹ کے لیے لے جانے والی ایمبولینسوں کے ساتھ روس کی وفاقی سیکیورٹی سروس، ایف ایس بی، کے اہلکار بھی موجود رہے۔

تاہم ارکتسک ریجن کے گورنر ایگور کوبزیف نے 2 اکتوبر کو کہا تھا کہ زیر نگرانی افراد میں بیماری کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں۔ ان کے مطابق اب تک کیے گئے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی منفی آئے ہیں۔

پلانٹ کے ڈائریکٹر آرٹیم فومینیخ نے ملازمین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

ایلومینیم پلانٹ میں ماسک لازمی

دوسری جانب شیلیخوف میں واقع ارکتسک ایلومینیم پلانٹ نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر ملازمین کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔

پلانٹ کے ڈائریکٹر آرٹیم فومینیخ نے ملازمین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط کرنا نقصان سے بہتر ہے۔

انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ اگر بیماری کی کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیلیخوف کی صورتحال سے متعلق متضاد معلومات بھی گردش کر رہی ہیں۔

قرنطینہ کیے گئے زچگی اسپتال میں ایک خاتون کے شوہر کو بھی ڈیلیوری کے وقت اہلیہ کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

زچگی اسپتال میں بھی پابندیاں

قرنطینہ کیے گئے زچگی اسپتال میں ایک خاتون کے شوہر کو بھی ڈیلیوری کے وقت اہلیہ کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خاتون کے اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے طاعون کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شوہر کو ڈیلیوری روم میں داخل ہونے سے روک دیا۔ خاندان نے پارٹنر کی موجودگی والی پیدائش کے لیے باقاعدہ فیس بھی ادا کی تھی۔

3 اکتوبر کی صبح قریبی شہر بائیکالسک کی انتظامیہ نے شہریوں کو عارضی طور پر شیلیخوف اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

تاہم بعد میں یہ سوشل میڈیا پوسٹ حذف کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی سے کالاش ثقافت اور طرزِ زندگی کو خطرہ

بلیو ٹنگ کا خطرہ، برطانیہ میں مویشیوں کی بدترین وبا

طاعون کیا ہے؟

طاعون ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا سے پھیلتی ہے۔ یہی جراثیم تاریخ کی بڑی وباؤں میں شمار ہونے والی بلیک ڈیتھ کا سبب بھی بنے تھے۔

یہ بیماری آج بھی وسطی ایشیا، منگولیا اور سائبیریا کے بعض علاقوں میں جنگلی چوہوں اور دیگر جانوروں کی آبادی میں موجود ہے۔ کبھی کبھار انسانوں میں بھی اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں روسی حکام کے مطابق زیر نگرانی افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ تاہم طبی مراکز میں قرنطینہ اور دیگر احتیاطی اقدامات کے باعث علاقے میں عوامی تشویش بڑھ گئی ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

18 hours ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

1 day ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

2 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

2 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

3 days ago

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…

4 days ago

This website uses cookies.