Environmental Reports

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرپرسن، حمزہ فرخ مقرر

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرپرسن حمزہ فرخ کی دو سالہ تقرری کا نوٹیفکیشن جاری، موسمیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے حمزہ فرخ کو پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کا چیئرپرسن مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

22 ستمبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حمزہ فرخ کی تقرری دو سال کے لیے معاہدے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ان کی تقرری کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے تحت کام کرتی ہے۔

حمزہ فرخ نے آکسفورڈ، اسٹینفورڈ اور ولیم کالج سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ فوربز کی انڈر 30 فہرست میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔

قانون کے تحت اتھارٹی وفاقی اور صوبائی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ادارہ جاتی رابطہ بھی قائم کرسکتی ہے۔

اتھارٹی کی ذمہ داریاں

پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت اتھارٹی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور آلودگی پھیلانے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے پالیسیاں، منصوبے اور اقدامات تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ قومی اور مقامی سطح کے موسمیاتی منصوبے تیار کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

قانون کے تحت اتھارٹی وفاقی اور صوبائی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ادارہ جاتی رابطہ بھی قائم کرسکتی ہے۔

اتھارٹی کے فرائض میں صاف توانائی اور توانائی کی بچت سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی اور مقامی سطح کے موسمیاتی منصوبے تیار کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔

قانون اسے موسمیاتی اقدامات کی پیش رفت پر نظر رکھنے اور قومی موسمیاتی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔

اتھارٹی مالی معاونت کے لیے منصوبے متعلقہ اداروں کو پیش کرسکتی ہے۔ قانون اسے موسمیاتی اقدامات کی پیش رفت پر نظر رکھنے اور قومی موسمیاتی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔

موسمیاتی خطرات اور اتھارٹی کا کردار

پاکستان میں سیلاب، شدید گرمی اور پانی کی کمی جیسے موسمیاتی خطرات کے پیش نظر اتھارٹی کی اہمیت اس بات سے وابستہ ہوگی کہ اس کے تیار کردہ منصوبے وفاق، صوبوں اور مقامی اداروں کے تعاون سے کس حد تک عملی صورت اختیار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مصنوعی ذہانت کا انتظام و نگرانی اور معاشرے پر اس کے اثرات

خزاں کی آمد، امریکا میں سرد ہواؤں کی لہر

قانون کے مطابق اتھارٹی کو ہر مالی سال کے اختتام پر اپنی سرگرمیوں، اہم اقدامات کی پیش رفت، مشکلات اور آئندہ منصوبوں کی رپورٹ تیار کرنا ہوگی۔

یہ رپورٹ پارلیمان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس عمل سے اتھارٹی کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک ادارہ جاتی بنیاد فراہم ہوسکتی ہے۔

admin

Recent Posts

مصنوعی ذہانت کا انتظام و نگرانی اور معاشرے پر اس کے اثرات

مصنوعی ذہانت کے ضابطوں سے انسانی حقوق کے تحفظ تک، روزگار، صحت، تعلیم اور سماجی…

6 hours ago

خزاں کی آمد، امریکا میں سرد ہواؤں کی لہر

خزاں کی آمد کے ساتھ شکاگو، نیویارک، بوسٹن اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت گرنے…

1 day ago

معیاری اعلیٰ تعلیم کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، مصدق ملک

معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید مہارتیں نوجوانوں کو عالمی معیشت کا مؤثر مقابلہ کرنے کے…

3 days ago

عالمی یوم صفائی

عالمی یوم صفائی پر ماہرین نے ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری کے فضلے سے پیدا ہونے…

3 days ago

پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو سبز توانائی اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو ماحول دوست بنانے اور بجلی کے نظام میں بہتری کے…

4 days ago

واش گورننس میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کی اہمیت

مؤثر واش نظام وہی ہے۔ جو معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔…

5 days ago

This website uses cookies.