فروزاں رپورٹ
دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہونے والے چلی کے صحرائے اٹاکاما میں ایل نینو موسمیاتی مظہر کے باعث ہونے والی شدید بارشوں کے بعد رنگ برنگے پھول کھل اٹھے ہیں۔
عام حالات میں خشک اور بنجر رہنے والی زمین کے نیچے تقریباً 200 مختلف اقسام کے لاکھوں بیج اور بلب پانی کے انتظار میں موجود رہتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایل نینو کے باعث شمالی چلی میں ہونے والی شدید بارشوں نے ان بیجوں اور بلبوں کو زندگی بخش دی۔ اس کے بعد صحرائی خطہ پھولوں سے ڈھک گیا ہے۔
وسیع رقبے پر جامنی رنگ کے پھولوں کی چادر بچھ گئی ہے۔ پھٹی ہوئی خشک زمین سے سفید پھول بھی نمودار ہو رہے ہیں۔
درجنوں سیاح اس دلکش منظر کی تصاویر بنانے کے لیے رک رہے ہیں۔ بعض مقامات پر گہری سرخ شام کے آسمان پر قوسِ قزح بھی اس خوبصورتی میں اضافہ کر دیتی ہے۔
چلی کے جنگلاتی ادارے کوناف کے مطابق بعض علاقوں میں موسمی بارش 180 ملی میٹر سے تجاوز کر گئی۔ ادارے کے مطابق اس مقدار کی بارش پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔
بارش کا پانی معمول سے زیادہ گہرائی تک ریت میں جذب ہوا۔ اس کے نتیجے میں دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 800 کلومیٹر شمال میں واقع قدرتی علاقے میں دوبارہ زندگی لوٹ آئی۔
کوناف کے مطابق صحرائے اٹاکاما میں پھولوں کا یہ قدرتی مظہر اکتوبر میں اپنے عروج پر پہنچے گا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 15 ہزار ہیکٹر رقبہ پھولوں سے ڈھک جائے گا۔
موجودہ ایل نینو کو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے ایسے مظاہر میں سب سے طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔
ایل نینو وسطی اور مشرقی خطِ استوا بحرالکاہل کی سطح کا درجہ حرارت بڑھاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور موسم کے معمولات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
چلی میں جولائی کے دوران ہونے والی شدید بارشوں نے 13 افراد کی جان لے لی تھی۔ تقریباً 4 ہزار گھر تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔
کوناف کے عہدیدار سیزر پیزارو کے مطابق ایل نینو کے تباہ کن اثرات کے باوجود یہ موسمیاتی مظہر بعض علاقوں میں قدرتی زندگی کو فروغ بھی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹاکاما میں صرف پھول ہی نہیں کھلتے بلکہ کیڑے مکوڑے، گھونگے، پرندے، رینگنے والے جانور اور ممالیہ بھی بڑی تعداد میں نمودار ہوتے ہیں۔
شہد کی مکھیاں پھولوں کی گردہ افشانی میں مصروف ہیں۔ بھنورے اور دیگر کیڑے پھولوں کے باقیات سے غذا حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ڈنمارک کی ماحول دوست ترقی سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
گلگت بلتستان میں دیہی ترقی کا 17 ارب کا منصوبہ
یہ کیڑے نائٹروجن سے بھرپور فضلے کے ذریعے مٹی کو بھی زرخیز بناتے ہیں۔ اس عمل سے آئندہ بارشوں کے بعد مزید پودوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔
پیزارو نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیاحوں کی بڑی تعداد اس قدرتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ مقررہ راستوں کا استعمال کریں اور اپنے پالتو جانوروں کو ساتھ نہ لائیں۔
ان کے مطابق صحرائے اٹاکاما کا پھولوں سے سج جانا چلی کے لیے باعثِ فخر اور قومی ورثے کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی صحرا بارش کے بعد پھولوں سے بھر جاتے ہیں۔ تاہم اٹاکاما میں پھولوں کے پھیلاؤ کا وسیع رقبہ اور انواع کا غیر معمولی تنوع اسے منفرد بناتا ہے۔
بنکاک میں سیلاب، 48 گھنٹے کی بارش سے سڑکیں اور گھر زیرِ آب، 10 لاکھ…
ڈنمارک کی ماحول دوست ترقی میں پالیسیوں کا تسلسل اہم، کراچی سمیت پاکستانی شہروں کے…
گلگت بلتستان میں 43 ہزار 200 گھرانے مستفید، 216 واٹر سپلائی اسکیمیں، متبادل توانائی اور…
پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرپرسن حمزہ فرخ کی دو سالہ تقرری کا نوٹیفکیشن جاری،…
مصنوعی ذہانت کے ضابطوں سے انسانی حقوق کے تحفظ تک، روزگار، صحت، تعلیم اور سماجی…
خزاں کی آمد کے ساتھ شکاگو، نیویارک، بوسٹن اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت گرنے…
This website uses cookies.