فرحین العاص
ڈنمارک قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً ہوا سے بجلی کی پیداوار، توانائی کے مؤثر استعمال، پانی کے بہتر انتظام اور شہروں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے حوالے سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی، پالیسیوں میں تسلسل اور حکومت، کاروباری اداروں اور تحقیقی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کارفرما ہے۔
ڈنمارک پاکستان کے ساتھ بھی صاف توانائی اور پانی کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تجربات اور مہارت کا تبادلہ کر رہا ہے۔
انہی موضوعات پر فروزاں نے پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر عزت مآب ماجا دیروس مورٹینسن سے خصوصی گفتگو کی۔
انٹرویو میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان صاف اور قابلِ اعتماد توانائی، پانی کے بہتر انتظام، پائیدار شہری ترقی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈنمارک کے تجربات سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
گفتگو میں کراچی جیسے بڑے ساحلی شہر کو درپیش سیلاب، شدید موسم اور شہری سہولتوں پر بڑھتے دباؤ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ پیش ہیں اس خصوصی انٹرویو کے اہم سوالات اور سفیر صاحبہ کے جوابات۔
فروزاں: ڈنمارک قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً ہوا سے بجلی پیدا کرنے، توانائی کے مؤثر استعمال اور پائیدار ترقی میں اپنی پیش رفت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس پیش رفت میں کن پالیسیوں اور طویل مدتی منصوبوں نے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ڈنمارک کے تجربات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
جواب: ڈنمارک کی ماحول دوست توانائی کی جانب پیش رفت کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کی بنیاد پالیسیوں میں تسلسل، طویل مدتی منصوبہ بندی اور حکومت، کاروباری اداروں اور تعلیمی و تحقیقی شعبے کے قریبی تعاون پر رکھی گئی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی، توانائی کا مؤثر استعمال اور مختلف ذرائع پر مشتمل توانائی کا نظام، سب اس پیش رفت کا اہم حصہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کے حالات مختلف ہیں، اس لیے ایک ہی طریقہ ہر جگہ یکساں طور پر کارآمد نہیں ہو سکتا۔
تاہم پاکستان ایک طویل مدتی اور قابلِ اعتماد پالیسی ڈھانچا اپنا کر ماحول دوست توانائی کی جانب اپنی پیش رفت کو آگے بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان نے شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے میں بہت پیش رفت کی ہے۔ اب اس پیش رفت کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، تکنیکی صلاحیت میں اضافے اور توانائی کی منصوبہ بندی کے ذریعے فوری طور پر سہارا دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کے تحت ڈنمارک قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے، طویل مدتی منصوبہ بندی اور صنعتوں میں توانائی کے مؤثر استعمال سے متعلق اپنے تجربات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
ہمارا مقصد ڈنمارک کا نظام پاکستان میں جوں کا توں نافذ کرنا نہیں، بلکہ ایسے تجربات کا تبادلہ کرنا ہے جنہیں پاکستان اپنے حالات کے مطابق اختیار کر سکے۔
فروزاں: ڈنمارک نے اپنے شہروں اور ساحلی علاقوں کو سیلاب، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور شدید موسم سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے کون سے اقدامات پاکستان، خصوصاً کراچی جیسے بڑے ساحلی شہر، کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں؟
جواب: انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کو شہری منصوبہ بندی کے آغاز ہی سے اس کا حصہ بنانے کا تجربہ ہے۔
ان اقدامات میں نکاسی آب کی بہتری، سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کی نشاندہی، ساحلی تحفظ، بارش کے پانی کا انتظام، سرسبز مقامات اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات کو پیشِ نظر رکھ کر بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔
ڈنمارک کی سفیر کا کہنا تھا کہ کراچی کو سیلاب اور شدید موسم کے خطرات کے ساتھ پانی اور شہری سہولتوں پر بڑھتے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اس لیے یہ اصول اس شہر کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتے ہیں۔ تاہم ڈنمارک میں کیے گئے اقدامات میں سے کوئی ایک اقدام براہِ راست کراچی میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کے تجربات ایسے شہروں کی منصوبہ بندی میں ضرور مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے ذریعے وہ موسمیاتی خطرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔
اس حوالے سے پانی کا انتظام تعاون کا ایک اہم حصہ ہے۔ ڈنمارک زیرِ زمین پانی اور آبی وسائل کے انتظام جیسے شعبوں میں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا پہلے ہی تبادلہ کر رہا ہے۔
ہم اس شعبے میں مزید تعاون کے وسیع امکانات بھی دیکھتے ہیں۔
فروزاں: پاکستان میں ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کی خاصی صلاحیت موجود ہے، مگر صاف توانائی کے فروغ میں مالی، تکنیکی اور پالیسی سے متعلق مشکلات بھی حائل ہیں۔ ڈنمارک ٹیکنالوجی کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان کو صاف اور قابلِ اعتماد توانائی کے نظام کی جانب بڑھنے میں کیسے مدد دے سکتا ہے؟
جواب: ڈنمارک تکنیکی مہارت، ادارہ جاتی تعاون، صلاحیتوں میں اضافے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے مواقع کے ذریعے پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
ہمارا جاری اسٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (ایس ایس سی) پروگرام توانائی کی طویل مدتی منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے اور توانائی کے مؤثر استعمال جیسے شعبوں پر توجہ دیتا ہے۔
پاکستان میں شمسی اور ہوائی بجلی کا استعمال بڑھنے کے ساتھ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ بجلی کا نظام ان ذرائع سے پیداوار میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو قابلِ اعتماد انداز میں سنبھال سکے۔
اسی لیے بجلی کے نظام میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کی گنجائش اور جدید منصوبہ بندی اہم ہیں۔
ڈنمارک کی کمپنیاں اور ادارے ٹیکنالوجی، مہارت اور تربیت کے ذریعے بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہم اسے ایسی شراکت داری سمجھتے ہیں جس میں دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کی ضروریات کے مطابق حل تیار کریں۔
فروزاں: ڈنمارک کے شہر پائیدار ٹرانسپورٹ، سائیکل چلانے کی سہولتوں، کچرے کے مؤثر انتظام اور پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان میں سے کون سے طریقے پاکستانی شہروں کے حالات کے مطابق اختیار کیے جا سکتے ہیں اور بلدیاتی ادارے، کاروباری شعبہ اور مقامی آبادی مل کر ان اقدامات کو کیسے کامیاب بنا سکتے ہیں؟
جواب: انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک میں کیے گئے کئی تجربات پاکستانی شہروں کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، خاص طور پر پائیدار آمدورفت، پانی کے انتظام، گندے پانی کی صفائی اور کچرے کے انتظام میں۔
تاہم اصل بات یہ ہے کہ ہر طریقے کو پاکستان کے معروضی حالات اور ضرورت کے مطابق اختیار کرنا ہو گا۔
مثال کے طور پر پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے لیے محفوظ راستے، بہتر عوامی ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کی بہتر منصوبہ بندی شہروں کو زیادہ پائیدار بنا سکتی ہے۔
پانی اور گندے پانی کا انتظام بھی ایک اہم شعبہ ہے۔ فیصل آباد کا ایسٹرن ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جیسے ڈنمارک کے تعاون سے چلنے والے منصوبے یہ دکھاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعاون صاف پانی اور صحت مند شہری ماحول کے حصول میں کیسے مدد دے سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماحول دوست شہروں کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
بلدیاتی ادارے منصوبہ بندی اور قواعد کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں، کاروباری ادارے سرمایہ کاری اور نئے طریقے سامنے لاتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی پائیدار طریقوں کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔
فروزاں: فروزاں 2006 سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے اور فروزاں ڈیجیٹل کے ساتھ مل کر پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل کے لیے وقف ہے۔ یہ پاکستان کا واحد ماحولیاتی پرنٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ بین الاقوامی ماحولیاتی معلومات، کامیاب اقدامات اور عملی حل قومی زبان اردو میں پاکستانی عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچیں۔
آپ فروزاں کی اس کوشش کو کیسے دیکھتی ہیں، اور فروزاں اور ڈنمارک کے اداروں کے درمیان موسمیاتی آگاہی، علم کے تبادلے اور پاکستان کے لیے عملی حل اجاگر کرنے میں تعاون کے کیا امکانات ہیں؟
جواب: میں فروزاں کی اس کوشش کا بھرپور خیرمقدم کرتی ہوں کہ وہ موسمیاتی اور ماحولیاتی معلومات پاکستانی عوام، خصوصاً اردو میں، قابلِ رسائی بنا رہا ہے۔
آگاہی ضروری ہے تاکہ ہم موسمیاتی مسائل کے مقابلے کے لیے مل کر عملی قدم اٹھا سکیں۔
میں فروزاں کے قارئین اور پاکستان کے دیگر شہریوں کو بھی ترغیب دوں گی کہ وہ ڈنمارک کے اداروں اور پلیٹ فارمز پر دستیاب معلومات اور عملی مثالوں سے فائدہ اٹھائیں۔
اسٹیٹ آف گرین قابلِ تجدید توانائی، توانائی کے مؤثر استعمال، پانی، پائیدار شہروں اور ماحول دوست تبدیلی کے دیگر شعبوں میں ڈنمارک کی مہارت اور حل پیش کرتا ہے۔
اسی طرح فوڈ نیشن پائیدار خوراک کی پیداوار، زراعت اور خوراک کے شعبے میں نئے طریقوں سے متعلق ڈنمارک کا تجربہ سامنے لاتا ہے۔ یہ معلومات اور رہنمائی کے مفید ذرائع ہیں۔
پاکستان میں ڈنمارک کے سفارت خانے نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے تعاون سے پاکستان کلائمیٹ ایکشن ہب (پی سی اے ایچ) بھی شروع کیا ہے۔
اسٹیٹ آف گرین کے تصور سے متاثر یہ پلیٹ فارم پاکستان بھر میں تیار کیے جانے والے نئے اور مقامی حالات سے ہم آہنگ موسمیاتی حل پیش کرتا ہے۔
ان میں قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت، پانی کا انتظام اور فطرت پر مبنی حل شامل ہیں۔ میں قارئین کو دعوت دوں گی کہ وہ اس پلیٹ فارم پر پاکستان میں پہلے ہی تیار کیے جانے والے عملی حل دیکھیں۔
گلگت بلتستان میں 43 ہزار 200 گھرانے مستفید، 216 واٹر سپلائی اسکیمیں، متبادل توانائی اور…
پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرپرسن حمزہ فرخ کی دو سالہ تقرری کا نوٹیفکیشن جاری،…
مصنوعی ذہانت کے ضابطوں سے انسانی حقوق کے تحفظ تک، روزگار، صحت، تعلیم اور سماجی…
خزاں کی آمد کے ساتھ شکاگو، نیویارک، بوسٹن اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت گرنے…
معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید مہارتیں نوجوانوں کو عالمی معیشت کا مؤثر مقابلہ کرنے کے…
عالمی یوم صفائی پر ماہرین نے ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری کے فضلے سے پیدا ہونے…
This website uses cookies.