Environmental Reports

آئرلینڈ کو بدلتی آب و ہوا کے لیے منظم تیاری کی ضرورت

آئرلینڈ کو بدلتی آب و ہوا کے لیے فوری تیاری کی ضرورت، کلائمیٹ چینج ایڈوائزری کونسل کا منصوبہ بندی تیز کرنے پر زور۔

آئرلینڈ کو شدید موسمی واقعات پر ہر بار ہنگامی ردِعمل دینے کے بجائے بڑھتی ہوئی موسمی شدت کے لیے منظم اور طویل مدتی تیاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔

آئرلینڈ کی کلائمیٹ چینج ایڈوائزری کونسل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں حکومت پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری میں تیزی لائی جائے۔

کونسل کی رپورٹ ’’آئرلینڈ کی بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے تیاری‘‘ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک کی موسمیاتی لچک اور تیاری کے موجودہ اقدامات کو درپیش خطرات کی شدت اور فوری نوعیت سے ہم آہنگ نہیں کیا گیا۔

کونسل نے حکومت پر زور دیا کہ عدم کارروائی کی قیمت کا تعین کیا جائے۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کی مکمل لاگت بھی واضح کی جائے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بجٹ 2027 کی تیاری جاری ہے۔

دوسری جانب موسم گرما میں بلند درجہ حرارت نے پانی کی فراہمی، زراعت، صحت کے نظام اور کمزور طبقات کے لیے خطرات بڑھا دیے۔

شدید موسمی واقعات نے خطرات نمایاں کر دیے

رپورٹ کے مطابق رواں سال طوفان چندرا اور طویل بارشوں نے منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو نمایاں کیا۔

دوسری جانب موسم گرما میں بلند درجہ حرارت نے پانی کی فراہمی، زراعت، صحت کے نظام اور کمزور طبقات کے لیے خطرات بڑھا دیے۔

کونسل کے مطابق یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ حکومت کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردِعمل سے فعال اور پیشگی اقدامات کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔

اس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ مسلسل سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

’’آئرلینڈ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھگت رہا ہے‘‘

کلائمیٹ چینج ایڈوائزری کونسل کی ایڈاپٹیشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر پیٹر تھورن نے کہا کہ آئرلینڈ پہلے ہی بدلتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک کو شدید سیلاب اور طویل بارشوں سے لے کر غیر معمولی گرمی اور خشک سالی جیسی صورتحال تک کا سامنا کرنا پڑا۔

پیٹر تھورن کے مطابق آئرلینڈ ان دونوں طرح کے شدید موسمی حالات کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدید موسمی واقعات کو ہر بار الگ الگ ہنگامی صورتحال سمجھ کر صرف نقصانات کی مرمت کافی نہیں۔

ان کے مطابق گھروں، آبادیوں، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کو اگلے بحران سے پہلے محفوظ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے بہتر تعمیر اور پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔

موسمیاتی منصوبہ بندی میں خامیاں

رپورٹ میں موجودہ موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کونسل کے مطابق متعدد منصوبوں میں مکمل لاگت کا تعین نہیں کیا گیا۔ بعض منصوبوں کے لیے فنڈنگ یا قابلِ پیمائش اہداف بھی موجود نہیں۔

2018 کے قومی سیلابی خطرات کے جائزے کے تحت ترجیح دیے گئے 54 بڑے سیلابی تحفظ کے منصوبوں میں سے 30 اب بھی ابتدائی ڈیزائن کے مرحلے میں ہیں۔

کونسل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تعمیراتی اور رہائشی منصوبہ بندی میں بعض اوقات موسمیاتی خطرات کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 برس کے دوران کونسلرز کی جانب سے دوبارہ زوننگ کے لیے تجویز کیے گئے تقریباً 288 مقامات سیلاب کے خطرے سے دوچار تھے۔

کونسل نے کہا کہ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود منصوبہ بندی کے فیصلوں میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔

سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں تعمیرات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جو علاقے اس وقت سیلاب سے متاثر نہیں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں وہاں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

پیٹر تھورن نے کہا کہ حکومت کو بہتر سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے عدم کارروائی کی قیمت کا تعین کرنا ہوگا۔

انہوں نے ضروری اقدامات کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور منصوبہ بندی سے عملی اقدامات کی طرف بڑھنے پر بھی زور دیا۔

پیٹر تھورن کے مطابق موسمیاتی لچک پیدا کرنے پر رقم خرچ ہوگی، تاہم عدم کارروائی کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

توانائی کے اخراجات کم کرنے کے اقدامات

دوسری جانب آئرلینڈ کی حکومت نے توانائی کے اخراجات کم کرنے، توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے اور فوسل فیولز سے منتقلی میں مدد کے لیے ایس ای اے آئی کی متعدد نئی گرانٹس کا اعلان کیا ہے۔

6 اکتوبر سے نافذ ہونے والے اقدامات میں وارمر ہومز اسکیم کے تحت سولر پی وی اور بیٹری سسٹمز کی مکمل مالی معاونت شامل ہے۔

بعض گھرانوں کے لیے سولر اور انسولیشن سپورٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ فوسل فیول بوائلر ختم کرنے کے لیے 2 ہزار یورو گرانٹ بھی دی جائے گی۔

سولر، ہیٹ پمپس اور سولر تھرمل سسٹمز میں سرمایہ کاری کرنے والے کاروباروں کے لیے گرانٹس میں بھی توسیع کی گئی ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

19 hours ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

1 day ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

2 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

2 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

3 days ago

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…

4 days ago

This website uses cookies.